کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں پاکستان نیوی میں ملازم ہوں۔ میری مقررہ ڈیوٹی صبح 8:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک ہے، جبکہ اوور ٹائم کی صورت میں ڈیوٹی 7:30 بجے تک ہوتی ہے۔ عملی طور پر ہماری چھٹی اکثر 4:00 سے 5:00 بجے کے درمیان ہو جاتی ہے اور اس بات کا ہمارے افسران کو بھی علم ہوتا ہے۔ ہماری تنخواہ میں اوور ٹائم کی رقم بھی شامل ہوتی ہے، لیکن افسران خود ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ اوور ٹائم کی رقم درحقیقت ملازمین کو بطور ویلفیئر دی جاتی ہے۔ البتہ بعض اوقات ہمیں ڈیوٹی کے بعد فون کرکے دوبارہ بلا لیا جاتا ہے اور اضافی کام بھی لیا جاتا ہے، مگر اس کے بدلے کوئی الگ معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ مزید یہ کہ تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اوور ٹائم کی رقم ملتی ہے، جبکہ 20 فیصد کو نہیں ملتی اور یہ معاملہ اختیاری ہوتا ہے کہ کس ملازم کو اس فہرست میں شامل کیا جائے۔ میں گزشتہ تین سال سے ملازمت کر رہا ہوں اور اس دوران اوور ٹائم کی رقم بھی وصول کرتا رہا ہوں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا مذکورہ صورت میں اوور ٹائم کی یہ رقم لینا شرعاً جائز ہے؟ اگر یہ رقم لینا جائز نہ ہو تو گزشتہ تین سال کے دوران جو رقم وصول کر چکا ہوں، اس کا کیا حکم ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کی شرعی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے۔ کسی بھی ادارے میں ملازمت کی صورت میں ملازمین پر لازم ہوتا ہے کہ ادارے کی طرف سے جن امور کی ذمہ داری اور جن اوقات میں کام کرنے کا پابند کیا گیا ہو، ان مقررہ اوقات میں وہ ذمہ داریاں پوری کریں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر ملازم نے اوور ٹائم کیے بغیر اوور ٹائم کی تنخواہ وصول کی ہے تو یہ شرعاً جائز نہیں ہے، اگرچہ اعلیٰ افسران کو اس بات کا علم ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ادارے کے حق میں خیانت،جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اوور ٹائم کی وہ رقم جو اوور ٹائم کیے بغیر وصول کی گئی ہے، آپ پر لازم ہے کہ اس کے برابر رقم متعلقہ ادارے کو واپس کی جائے اور جو اضافی وقت میں بلا کر کام لیا جاتا ہے وہ آپ کی طرف سے احسان شمار ہوگا۔
صحيح مسلم: (رقم الحدیث:105 - (2607)،ط:دار طوق النجاۃ) عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا . الدرالمختار:(6/ 69، ط:دارالفكر) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا. النتف في الفتاوى للسغدي: (2/ 559،ط:مؤسسة الرسالة) فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل واذا وقعت على وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الاجرة.