اگر کوئی شخص اپنی چیز فروخت کرتے وقت اسے خریدنے، لانے یا بازار تک پہنچانے میں آنے والے اخراجات کو بھی اصل قیمت میں شامل کرے تو کیا شرعاً ان اخراجات کو اصل قیمت کے ساتھ ملانا جائز ہے؟
چیز خریدنے کے بعد اس پر آنے والے اخراجات (جیسے نقل و حمل وغیرہ) اصل قیمت میں شامل کرکے یہ کہنا کہ یہ چیز میں نے اتنے کی خریدی ہے، جائز نہیں، کیونکہ یہ جھوٹ ہے، البتہ یوں کہنا درست ہے کہ یہ چیز مجھے اتنے میں پڑی ہے اور میں اسے اتنے میں فروخت کر رہا ہوں۔
كنز الدقائق:(427/1،ط:دار السراج) وله أن يضمّ إلى رأس المال أجر القصّار والصّبغ والطّراز والفتل وحمل الطّعام وسوق الغنم ويقول قام عليّ بكذا. البحر الرائق:(119/6،ط: دار الكتاب الإسلامي) (وله أن يضم إلى رأس المال أجر القصار والصبغ والطراز والفتل وحمل الطعام وسوق الغنم) لأن العرف جار بإلحاق هذه الأشياء برأس المال في عادة التجار، ولأن كل ما يزيد في المبيع أو قيمته يلحق به هذا هو الأصل، وما عددناه بهذه الصفة لأن الصبغ وأخواته يزيد في العين، والحمل يزيد في القيمة إذ القيمة تختلف باختلاف المكان.....قوله (ويقول قام علي بكذا)، ولا يقول اشتريته لأنه كذب، وهو حرام، ولذا قدمنا أنه إذا قوم الموروث ونحوه يقول ذلك، وكذا إذا رقم على الثوب شيئا وباعه برقمه فإنه يقول رقمه كذا، وسواء كان ما رقمه موافقا لما اشتراه به أو أزيد حيث كان صادقا في الرقم كما في فتح القدير.