السلام علیکم محترم ! آج کل جو گروی کا رواج ہے جیسے کسی نے مالک مکان کو 5 لاکھ روپے دے دیے کہ جب وہ گھر چھوڑے گا تو مالک مکان وہ پیسے واپس کرے گا اور کراۓ کے طور پر کوئ معمولی سی رقم جیسے 2 ہزار روپے مقرر کر لی، حالانکہ گھر کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے تو کیا یہ صورت جائز ہے؟
واضح رہے کہ ایڈوانس رقم زیادہ جمع کروا کر اس کے عوض کرایہ کم مقرر کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے یہ معاملہ ناجائز و حرام ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایڈوانس رقم حقیقت میں مالکِ مکان کے ذمے قرض ہوتی ہے اور شریعت کا اصول ہے کہ "ہر وہ قرض جس سے قرض دینے والے کو نفع حاصل ہو، وہ سود کے حکم میں ہے، لہٰذا قرض کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں، اس بنا پر سوال میں مذکورہ صورت میں اس نوعیت کا معاہدہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
*مصنف ابن أبي شيبة: (4/ 327،ط:دار التاج )* 20690 - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال: «كل قرض جر منفعة، فهو ربا» *النتف في الفتاوى للسغدي:(1/ 484،ط:مؤسسة الرسالة)* انواع الربا واما الربا فهو ثلاثة اوجه احدها في القروض والثاني في الديون والثالث في الرهون الربا في القروض فاما في القروض فهو على وجهين احدها ان يقرض عشرة دراهم باحد عشر درهما او باثني عشر ونحوهاوالآخر ان يجر الى نفسه منفعة بذلك القرض او تجر اليه وهو ان يبيعه المستقرض شيئا بارخص مما يباع او يؤجره او يهبه او يضيفه او يتصدق عليه بصدقة او يعمل له عملا يعينه على اموره او يعيره عارية أو يشتري منه شيئا بأغلى مما يشتري او يستأجر اجارة باكثر مما يستأجر ونحوها ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل فان ذلك ربا وعلى ذلك قول ابراهيم النخعي كل دين جر منفعة لا خير فيه.