السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر کسی شخص نے گھر بنانے کا ٹھیکہ لیا ہو تو کیا وہ ٹھیکیدار کسی اور کو ٹھیکہ دے سکتا ہے؟
اگر کوئی شخص گھر بنانے کا ٹھیکہ لیتا ہے اور مالک صرف فی فٹ یا مجموعی قیمت طے کرتا ہے، یہ شرط نہیں لگاتا کہ کام آپ خود یا اپنے مزدوروں سے ہی کروائیں گے تو ٹھیکہ دار کو اختیار ہے کہ خود کام کرے، اپنے مزدوروں سے کروائے یا کسی دوسرے ٹھیکہ دار کو کم قیمت پر دے کر کام مکمل کروائے۔ البتہ اگر مالک نے شروع ہی میں یہ شرط لگائی ہو کہ تعمیر کا کام آپ خود یا اپنے مزدوروں سے ہی کروائیں گے تو پھر یہ کام کسی دوسرے ٹھیکہ دار کے سپرد کرنا جائز نہیں۔
*بدائع الصنائع:(208/4،ط:دار الكتب العلمية)* وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر، كمن استأجر جملا بعينه للحمل لا يجبر على أخذ غيره، ولو استأجر على الحمل ولم يعين جملا كان للمكاري أن يسلم إليه أي جمل شاء، كذا ههنا. *اللباب في شرح الكتاب:(102/2،ط:المكتبة العلمية)* (وإذا اشترط) المستأجر (على الصانع أن يعمل بنفسه فليس له): أي الصانع (أن يستعمل غيره)؛ لأنه لم يرض بعمل غيره (وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله)؛ لأن المستحق عملٌ في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره، بمنزلة إيفاء الدين، والعادة جارية أن الصناع يعملون بأنفسهم وبأجرائهم.