مفتی صاحب! ایک شخص نے مجھ سے ایک لاکھ روپے قرض لیا اور بطور ضمانت کے اپنا موٹر سائیکل میرے پاس گروی رکھا، لیکن وہ اب تک میرا قرض نہیں لٹا سکا اور مجھے پیسوں کی ضرورت بھی ہے تو کیا اس صورت میں، میں گروی رکھی ہوئی موٹر سائیکل کو بیچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہوں یا نہیں؟
واضح رہے کہ بطورِ رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز محض ضمانت کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اپنے اصل مالک (راہن) ہی کی ملکیت میں رہتی ہے، اس لیے مرتہن (قرض خواہ) کے لیے اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا یا اسے فروخت کرنا جائز نہیں، البتہ اگر راہن (مقروض) قرض کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو بہتر اور مستحسن یہ ہے کہ مرتہن اسے ادائیگی کی استطاعت حاصل ہونے تک مہلت دے، تاہم اگر کسی معقول عذر کی بنا پر مزید مہلت دینا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں راہن کی اجازت سے، یا عدالتِ شرعیہ کے حکم سے، رہن رکھی ہوئی چیز فروخت کرکے اپنے قرض کے بقدر رقم وصول کی جاسکتی ہے اور اگر فروخت سے کچھ رقم زائد بچ جائے تو وہ راہن کو واپس کرنا لازم ہوگی، لہٰذا راہن کی اجازت یا عدالتی کارروائی کے بغیر مرتہن کے لیے رہن میں رکھی ہوئی چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں۔
*البحر الرائق : (270/8،ط:دارالکتاب الاسلامی)* قال - رحمه الله – (و له أن يطالب الراهن بدينه و يحبسه به) أي للمرتهن أن يطالب الراهن بدينه و بحبسه به ، و إن كان بعد الرهن في يده ؛ لأن حقه باق ، و الرهن لزيادة الصيانة فلا تمتنع المطالبة ، و كذا لا يمتنع الحبس به ؛ لأنه جزاء الظلم و هو المماطلة على ما بيناه في القضاء مفصلا ، و قال الكرخي في مختصره و للمرتهن مطالبة الراهن بدينه إذا كان مالا و لا يمنعه الارتهان به من ذلك و لا كون الرهن في يده ، و كذلك إذا كان مؤجلا و حل ، فإنه لا يمنع حبسه كذا في العيني على الهداية . اھ *الهداية :(414/4،ط:دار احیاء التراث العربی)* قال : " و للمرتهن أن يطالب الراهن بدينه و يحبسه به "؛ لأن حقه باق بعد الرهن و الرهن لزيادة الصيانة فلا تمتنع به المطالبة ، و الحبس جزاء الظلم ، فإذا ظهر مطله عند القاضي يحبسه كما بيناه على التفصيل فيما تقدم " و إذا طلب المرتهن دينه يؤمر بإحضار الرهن "؛ لأن قبض الرهن قبض استيفاء فلا يجوز أن يقبض ماله مع قيام يد الاستيفاء ؛ لأنه يتكرر الاستيفاء على اعتبار الهلاك في يد المرتهن و هو محتمل..... " و ليس له أن يبيع إلا بتسليط من الراهن ، و ليس له أن يؤاجر و يعير "؛ لأنه ليس له ولاية الانتفاع بنفسه فلا يملك تسليط غيره عليه ، فإن فعل كان متعديا ، و لا يبطل عقد الرهن بالتعدي.