السلام علیکم محترم ! آج کل جو زمین ٹھیکے پر دی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ راہنمائی فرمائیں۔
زمین کو کاشت کے لیے ٹھیکے پر دینا شرعاً جائز ہے، البتہ یہ شرط رکھنا کہ اسی زمین کی پیداوار میں سے مالک کو لازماً متعین مقدار میں (مثلاً پانچ بوری) گندم دی جائے، یہ جائز نہیں۔ جائز متبادل صورت یہ ہے کہ یا تو پیداوار میں مالک کا حصہ فیصد کے حساب سے مقرر کیا جائے،(مثلاً دس فیصد منافع زمین کے مالک کو دیا جائے گا) یا پھر اس پیداوار سے الگ کرایہ مقرر کرے ،مثلاً سات بوریاں گندم یا طے شدہ رقم، مالک کو ادا کی جائے گی۔
*الجوهرة النيرة:(259/1،ط: المطبعة الخيرية)* (قوله: ولا يصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة) لأن الجهالة في المعقود عليه وبدله يفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن، والمبيع، ثم الأجرة إذا كانت دراهم شرط فيها بيان المقدار ويقع على نقد البلد فإن كانت النقود مختلفة المالية فسدت الإجارة. *الدرالمختار:(29/6،ط: دارالفكر)* (و) تصح إجارة (أرض للزراعة مع بيان ما يزرع فيها، أو قال على أن أزرع فيها ما أشاء) كي لا تقع المنازعة وإلا فهي فاسدة للجهالة، وتنقلب صحيحة بزرعها ويجب المسمى وللمستأجر الشرب والطريق، ويزرع زرعين ربيعا وخريفا ولو لم يمكنه الزراعة للحال لاحتياجها لسقي أو كري إن أمكنه الزراعة في مدة العقد جاز وإلا لا، وتمامه في القنية.