السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، ہر مہینے کی تنخواہ سے تقریباً 2500 روپے کمپنی میں جمع ہوتے ہیں اور جب ہم واپسی کے لیے درخواست دیتے ہیں تو واپسی پر کمپنی کے پالیسی کے مطابق ہمیں 5000 روپے دیتے ہیں، کیا یہ ڈبل روپے سود میں آتے ہیں یا نہیں؟
اگر کوئی کمپنی ملازم کی تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم کاٹتی ہے اور اتنی ہی رقم اپنی طرف سے بھی شامل کر کے سال کے آخر میں یا ریٹائرمنٹ کے وقت ایک ساتھ ملازم کو واپس دیتی ہے، چونکہ کمپنی کی طرف سے دی جانے والی اضافی رقم قرض پر مشروط نفع نہیں، بلکہ کمپنی کا عطیہ اور ملازم کے لیے ایک فلاحی سہولت ہے، اس لیے یہ سود کے حکم میں داخل نہیں ہوتی ،لہذا ملازم کے لیے اس رقم کو لینا جائز ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ یہ قرض پر منافع نہیں، بلکہ کمپنی کی طرف سے عطیہ اور انعام ہے اس لیے اس کو لینا جائز ہے۔
*البحر الرائق:(300/7،ط:دار الكتاب الإسلامي)* (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها. *تبيين الحقائق:(106/5،ط:دار الكتاب الإسلامي)* قال - رحمه الله - (والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) أي لا تملك الأجرة بنفس العقد سواء كانت الأجرة عينا أو دينا، وإنما تملك بالتعجيل أو بشرط التعجيل أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من استيفائه بتسليم العين المستأجرة في المدة، وقال الشافعي - رحمه الله - بنفس العقد ويجب تسليمها عند تسليم العين المستأجرة.