مفتی صاحب! اگر مسح کی مدت کے دوران موزہ اتر جائے تو وضو کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہوں اور پھر ان پر مسح کیا ہو، اس کے بعد موزہ اتر جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، البتہ مسح کا حکم ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا دوبارہ پاؤں دھونا ضروری ہوگا، نئے سرے مکمل وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
*الهندية:(34/1،ط:دارالفكر)* وإذا نزع الخف وهو طاهر لا يجب عليه إلا غسل رجليه وكذا إذا انقضت مدة مسحه. هكذا في الهداية. *بدائع الصنائع: (1/ 12،ط:دار الكتب العلمية)* (ومنها) نزع الخفين، لأنه إذا نزعهما فقد سرى الحدث السابق إلى القدمين، ثم إن كان محدثا، يتوضأ بكماله، ويصلي، وإن لم يكن محدثا يغسل قدميه لا غير، ولا يستقبل الوضوء، وللشافعي قولان: في قول مثل قولنا.