استنجاء کی تعریف اور حکم

فتوی نمبر :
265
/ /

استنجاء کی تعریف اور حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مفتی صاحب میں ایک عالم کو سن رہا تھا ا انہوں نے کہا کہ اگر نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے یا ویسے ہی وضو ٹوٹ جائے تو وضو منانے کے لیے پھر استنجا کی ضرورت نہیں ہے جیسے مثال کے طور پر اگر ہوا خارج ہو جائے تو اس کے لیے دوبارہ استنجا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہاں اگر پیشاب کریں گے تو اس کے لیے استنجا ضروری ہے مفتی صاحب یہاں پر اس سے مراد بڑا پیشاب ہے کیا چھوٹا پیشاب کرنے کے بعد بھی استنجا کرنا ضروری ہے یا نہیں میں ذرا اس کو سمجھا نہیں اس بارے میں رہنمائی فرمائیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ استنجاء کا مطلب ہے کہ پیشاب یا پاخانہ کے بعد شرم گاہ کے اطراف میں لگی ہوئی نجاست کو پانی یا کسی پاک چیز سے پاک کرنا۔
عام حالت میں جب پیشاب یا پاخانے کی نجاست شرمگاہ کے آس پاس نہ پھیلے تو ایسی صورت میں استنجاء کرنا سنت ہے،لیکن اگر پیشاب یا پاخانے کی نجاست شرمگاہ سے آس پاس کی جگہ تک پھیل جائے اور اس کا پھیلاؤ ایک شرعی درہم (یعنی ہتھیلی کےگہراؤ جتنا) ہو جائے تو ایسی صورت میں استنجاء کرنا واجب ( یعنی فرض) ہو جاتا ہے اس نجاست کودور کیے بغیر نماز نہ ہوگی۔
نیز یہ واضح رہے کہ ریح (ہوا) خارج ہونے کے بعد استنجاء واجب نہیں، اس صورت میں صرف وضو کرنا کافی ہے۔

حوالہ جات

الشامية:(335/1،ط: دارالفكر)
إزالة نجس عن سبيل فلا يسن من ريح وحصاة ونوم وفصد (وهو سنة) مؤكدة مطلقا، وما قيل من افتراضه لنحو حيض ومجاوزة مخرج فتسامح.

بدائع الصنائع:19/1،ط: دارالكتب العلمية
وأما) بيان ما يستنجى منه فالاستنجاء مسنون من كل نجس يخرج من السبيلين له عين مرئية كالغائط، والبول، والمني، والودي، والمذي، والدم؛ لأن الاستنجاء للتطهير بتقليل النجاسة، وإذا كان النجس الخارج من السبيلين عينا مرئية تقع الحاجة إلى التطهير بالتقليل، ولا استنجاء في الريح؛ لأنها ليست بعين مرئية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
2025-07-14
205
فتوی نمبر 265کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 158