مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست کہہ رہا ہے کہ میرا گھر 35 لاکھ میں بیچ دو اور اگر اس سے اوپر پر بیچ دیا تو وہ اضافی رقم تمہاری ہے، مجھے بس 35 لاکھ چاہیے۔ اگر میں اس گھر کو 37 لاکھ میں بیچ دوں تو یہ دو لاکھ میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ شرعاً کمیشن ایجنٹ (دلال) کی اجرت پہلے سے متعین اور معلوم ہونا ضروری ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بیچنے والے کا کمیشن ایجنٹ سے یہ کہنا کہ ’’میرا گھر فروخت کر دو، مجھے صرف 35 لاکھ روپے دے دینا، اس سے زائد جتنی رقم میں گھر فروخت ہو وہ تمہاری ہوگی‘‘، درست نہیں ہے، کیونکہ اس معاملے میں کمیشن ایجنٹ کی اجرت پہلے سے متعین نہیں کی گئی، بلکہ مقررہ قیمت سے زائد حاصل ہونے والی رقم کو اجرت قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ معلوم نہیں کہ وہ زائد رقم کتنی ہوگی۔ اجرت کا مجہول اور غیر متعین ہونا شرعاً درست نہیں، لہٰذا یہ معاملہ فاسد ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ کمیشن ایجنٹ کی اجرت پہلے سے کسی متعین رقم یا فروخت کی قیمت کے معلوم فیصد کے طور پر طے کر لی جائے۔
*عمدة القاري: (12/ 93 ،ط:دار إحياء التراث العربي)* وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك هذا التعليق وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس نحوه. وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به هذا التعليق أيضا وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن يونس عن ابن سيرين، وفي (التلويح) : وأما قول ابن عباس وابن سيرين فأكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع، وممن كرهه: الثوري والكوفيون، وقال الشافعي ومالك: لا يجوز، فإن باع فله أجر مثله، *النتف في الفتاوى للسغدي: (2/ 575، ط: دار الفرقان)* والخامس اجارة السمسار لايجوز ذلك وكذلك لو قال بع هذا الثوب بعشرة دراهم فما زاد فهو لك وان فعل فله اجر المثل.