احرام کے مسائل

ٹیوبلر احرام پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
2562
عبادات / حج و عمرہ / احرام کے مسائل

ٹیوبلر احرام پہننے کا حکم

مفتی صاحب!
آج کل "ٹیوبلر احرام" چل رہا ہے، جس میں لنگی ایک گول نما کپڑے کی شکل میں ہوتی ہے، اس کے دونوں کنارے آپس میں ملے ہوتے ہیں، بظاہر یہ سلا ہوا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عام سلے ہوئے کپڑوں کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ اُسے اِسی ساخت میں تیار کیا جاتا ہے، کیا یہ احرام پہننا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حالتِ احرام میں مردوں کے لیے ایسا سلا ہوا لباس پہننا ممنوع ہے جو بدن یا کسی عضو کے مطابق تیار کیا گیا ہو، جیسے قمیص، پاجامہ، بنیان وغیرہ۔ فقہائے کرام نے “مخیط” (سلا ہوا لباس) سے یہی مراد لیا ہے، لہٰذا احرام کی لنگی اصل اور افضل صورت میں ایسی ہونی چاہیے جس کے دونوں کنارے الگ الگ ہوں، یعنی عام چادر یا تہبند کی طرح ہو جسے لپیٹا جائے۔
البتہ آج کل رائج “ٹیوبلر احرام” جس کی لنگی گول شکل میں تیار کی جاتی ہے اور اس کے کنارے ملے ہوتے ہیں، اگرچہ بظاہر سلی ہوئی محسوس ہوتی ہے، لیکن چونکہ وہ عام ملبوسات کی طرح اعضائے بدن کے مطابق تیار نہیں ہوتی، اس لیے فقہاء کی بیان کردہ تعریف کے مطابق یہ ممنوع “مخیط “ لباس میں داخل نہیں، لہٰذا اگر کسی شخص کو عام احرام باندھنے میں دشواری ہو یا ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے ٹیوبلر احرام استعمال کرنے کی گنجائش ہے ، اس صورت میں دم لازم نہیں آئے گا۔
تاہم افضل طریقہ یہی ہے کہ کھلی چادروں والے احرام کا استعمال کیا جائے۔

حوالہ جات

*شرح النووي:(8/73،ط: دار إحياء التراث العربي:)*
وأجمع ‌العلماء ‌على ‌أنه ‌لا ‌يجوز ‌للمحرم ‌لبس ‌شئ ‌من ‌هذه ‌المذكورات وأنه نبه بالقميص والسراويل على جميع ما في معناهما وهو ما كان محيطا أو مخيطا معمولا على) قدر البدن أو قدر عضو منه كالجوشن والتبان والقفاز وغيرها ونبه صلى الله عليه وسلم بالعمائم والبرانس على كل ساتر للرأس مخيطا كان أو غيره حتى العصابة فإنها حرام فإن احتاج إليها لشجة أو صداع أو غيرهما شدها ولزمته الفدية ونبه صلى الله عليه وسلم بالخفاف على كل ساتر للرجل من مداس وجمجم وجورب وغيرها وهذا كله حكم الرجال..

*المحيط البرهاني:(446/2،ط:دار الكتب العلمية)*
والأصل أن المحرم ممنوع عن لبس المخيط على وجه المعتاد حتى لو اتزر بالسراويل وارتدى بالقميص إذا فسخ به فلا بأس به؛ لأن المنع عن لبس المخيط في حق المحرم لما فيه من معنى الترفيه، وذلك في اللبس المعتاد لا في غيره؛ لأن غير المعتاد يحتاج إلى تكلف حفظه عند استعماله كما يحتاج إلى تكلف حفظ الأزرار.

*الهندية:(242/1،ط:دار الفكر)*
إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا في المحيط سواء لبسه ناسيا أو عامدا عالما أو جاهلا مختارا أو مكرها هكذا في البحر الرائق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2562کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --