السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !
عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور طواف کے سات چکروں کے بعد حلق کروا کر احرام کھول دیا ، صفا مروہ کی سعی نہیں کی۔
کیا اس صورت میں دم واجب آئے گا؟ اور کیا سعی کرنی ہوگی؟برائے مہربانی اس کا جواب جلدی دے دیں کسی حاجی نے پوچھا ہے.
عمرہ کے ارکان میں ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے، یعنی پہلے طواف، پھر سعی اور اس کے بعد حلق یا قصر کیا جائے۔ اگر کسی نے سعی کیے بغیر حلق کروا لیا تو اس پر دم دینا لازم ہے، دم کے بعد سعی کے اعادے کی ضرورت نہیں، چونکہ احرام کھول دیا ہے اس لیے اگر دوبارہ سعی کرنا چاہے تو احرام باندھنا ضروری نہیں۔بلکہ انہی سلے ہوئے کپڑوں میں بھی سعی کرسکتے ہیں ۔
البتہ دم معاف نہیں ہوگا ، کیونکہ ارکان عمرہ میں ترتیب واجب ہے ، جو کہ ادا نہ ہوئی ۔
*البحر الرائق:(25/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وترك الواجب من غير عذر يوجب الدم، ولو أعاده بعد ما حل وجامع لم يلزمه دم؛ لأن السعي غير مؤقت في نفسه إنما الشرط أن يأتي به بعد الطواف، وقد وجد. اهـ.
وكذا لو أتى به بعد ما رجع إلى أهله، وعاد إلى مكة لكنه يعود بإحرام جديد.
*أيضاً:(357/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وقد قدمنا أن هذا السعي واجب وليس بركن للحديث «اسعوا فإن الله كتب عليكم السعي» قاله - عليه السلام - حين كان يطوف بين الصفا والمروة فإنه ظني وبمثله لا يثبت الركن؛ لأنه إنما يثبت عندنا بدليل مقطوع فما في الهداية من تأويله بمعنى كتب استحبابا فمناف لمطلوبه؛ لأنه الوجوب وجميع السبعة الأشواط واجب لا الأكثر فقط.
*الهندية:(247/1،ط: دارالفكر)*
ومن ترك السعي بين الصفا والمروة فعليه دم وحجه تام كذا في القدوري.