احرام کے مسائل

حدود حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا

فتوی نمبر :
1607
عبادات / حج و عمرہ / احرام کے مسائل

حدود حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا

سوال:ایک شخص حج کے لیے گیا،ادائیگی حج سے پہلے وہ ایک رشتہ دار کے گھر گیا، لیکن واپسی پر اُس نے عمرہ نہیں کیا۔ اسی طرح حج کے بعد وہ طائف گیا، مگر واپسی پر بھی عمرہ ادا نہیں کیا، اب اسے کسی نے بتایا ہے کہ اس پر دَم لازم آئے گا تو کیا واقعی اُس پر دَم لازم ہے یا نہیں؟
اور اگر لازم ہو تو دَم کس طرح ادا کیا جائے گا ؟ بینوا توجروا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حرم میں داخل ہونے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ میقات سے پہلے حج یا عمرے کا احرام باندھے، اگر وہ احرام کے بغیر حرم میں داخل ہوگا تو اس پر ایک دم دینا واجب ہوگا، البتہ اگر وہ واپس میقات جاکر احرام باندھ لے تو دم ساقط ہو جائے گا۔

اگر کوئی شخص حرم جانے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ میقات کے اندر کسی جگہ کام سے آ رہا ہے اور میقات سے گزرنا اُس کے لیے مجبوری ہے تو ایسے شخص پر احرام واجب نہیں۔

اسی طرح مکہ مکرمہ میں رہنے والا اگر میقات سے باہر چلا جائے اور پھر واپس مکہ آنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے بھی میقات سے عمرے کا احرام باندھنا ضروری ہے، اگر وہ بغیر احرام کے حرم میں داخل ہوگا تو اس پر بھی ایک دم لازم ہوگا، لیکن اگر دوبارہ میقات جاکر احرام باندھ لے تو دم ساقط ہو جاتا ہے۔

لہذا پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور پر دم اور عمرہ ادا کرنا لازم ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ مسجد عائشہ سے جا کر احرام باندھے اور عمرہ کی ادائیگی کرے، نیز دم کے لئے حدود حرم میں ایک بکری یا دنبہ ذبح کرنا ضروری ہے ۔

حوالہ جات

الهندية:(221/1،ط: دارالفكر)
ولا يجوز للآفاقي أن يدخل مكة بغير إحرام نوى النسك أو لا ولو دخلها فعليه حجة أو عمرة كذا في محيط السرخسي في باب دخول مكة بغير إحرام.

وأيضاً:(221/1،ط: دارالفكر)
ومن كان داخل الميقات كالبستاني له أن يدخل مكة لحاجة بلا إحرام إلا إذا أراد النسك فالنسك لا يتأدى إلا بالإحرام، ولا حرج فيه كذا في الكافي، وكذلك المكي إذا خرج إلى الحل للاحتطاب أو الاحتشاش ثم دخل مكة يباح له الدخول بغير إحرام، وكذلك الآفاقي إذا صار من أهل البستان كذا في محيط السرخسي.

البحر الرائق:(51/3،ط:دار الكتاب الإسلامي)
(قوله: من جاوز الميقات غير محرم ثم عاد محرما ملبيا أو جاوز ثم أحرم بعمرة ثم أفسد، وقضى بطل الدم) أي من جاوز آخر المواقيت بغير إحرام ثم عاد إليه، وهو محرم، ولبى فيه فقد سقط عنه الدم الذي لزمه بالمجاوزة بغير إحرام؛ لأنه قد تدارك ما فاته أطلق الإحرام فشمل إحرام الحج فرضا كان أو نفلا، وإحرام العمرة، وأشار إلى أنه لو عاد بغير إحرام ثم أحرم منه فإنه يسقط الدم بالأولى؛ لأنه أنشأ التلبية الواجبة عند ابتداء الإحرام، ولهذا كان السقوط متفقا عليه، وقيد بكونه ملبيا في الميقات؛ لأنه لو عاد محرما، ولم يلب في الميقات فإنه لا يسقط الدم عنه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1607کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --