السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب !
اگر کوئی آدمی سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو یعنی سجدہ نہ کر سکتا ہو تو کیا وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی شخص سجدہ تو کر سکتا ہے، لیکن زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جو شخص قیام اور رکوع پر تو قادر ہو، لیکن زمین پر سجدہ نہ کرسکتا ہو، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ ابتدا ہی سے کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرے اور رکوع و سجدہ اشارے سے کرے۔
اگر کوئی شخص زمین پر سجدہ کرسکتا ہو، لیکن مکمل قیام پر قادر نہ ہو تو جتنی دیر کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے، اتنی دیر قیام کرے، پھر ضرورت کے مطابق زمین یا کرسی پر بیٹھ جائے، البتہ سجدہ زمین ہی پر ادا کرے۔
*الدرالمختار:(97/2،ط: دارالفكر)*
(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح) على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض.
*الشامية:(97/2،ط: دارالفكر)*
. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود.