مہر

بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کا سونا بیچنا

فتوی نمبر :
2547
معاملات / احکام نکاح / مہر

بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کا سونا بیچنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
کیا کوئی شخص بیوی کی رضامندی کے بغیر اسے مہر میں دیا گیا سونا اپنے کسی کام کے لیے بیچ سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیوی کا مال خواہ وہ سونا ہو یا کوئی اور چیز، مکمل طور پر اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا ہے، شوہر کو اس میں کسی قسم کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ بیوی اپنی خوشی اور رضامندی سے اجازت نہ دے،
لہذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کا بیوی کی رضامندی حاصل کیے بغیر اس کا سونا بیچنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(200/6،ط: دارالفكر)*
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه.

*الشامية:(200/6،ط: دارالفكر)*
(قوله إلا في مسائل مذكورة في الأشباه) الأولى: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه المريض بلا إذنه، ولا يجوز في المتاع وكذا أحد الرفقة في السفر،؛ لأنه بمنزلة أهله في السفر، الثانية: أنفق المودع على أبوي المودع بلا إذنه، وكان في مكان لا يمكن استطلاع رأي القاضي لم يضمن استحسانا، وإطلاق الكنز الضمان محمول على الإمكان، الثالثة: إذا مات بعض الرفقة في السفر فباعوا فراشه وعدته وجهزوه بثمنه وردوا البقية إلى الورثة أو أغمي عليه فأنفقوا عليه من ماله لم يضمنوا استحسانا.

*مجمع الضمانات:(142/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
لا يجوز التصرف في مال الغير بلا إذن، ولا دلالة إلا في مسائل الأولى يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه بغير إذنه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
5
فتوی نمبر 2547کی تصدیق کریں