مفتی صاحب! اولیاء کرام کی وفات کے بعد ان کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ نیک اعمال اور اللہ کے نیک بندوں کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، جیسے انبیاء کرام علیہم السلام کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، اسی طرح انبیاء کرام کے علاوہ دیگر اللہ کے نیک بندوں ، جیسے صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین یا دیگر بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی جائز ہے، لہذا اولیاء کرام کی وفات کے بعد ان کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، البتہ دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ کو واجب یا ضروری سمجھنا یا توسل والی دعا کی قبولیت کو اللہ کے ذمے لازم سمجھنا درست نہیں ہے۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:3710،ط:دار طوق النجاة)* عن أنس رضي الله عنه: «أن عمر بن الخطاب: كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا صلى الله عليه وسلم فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون. *فتح الباري:(2/ 497، ط :دارالمعرفة):* ويستفاد من قصة العباس استحباب الاستشفاع بأهل الخير والصلاح وأهل بيت النبوة، وفيه فضل العباس وفضل عمر لتواضعه للعباس ومعرفته بحقه.