مفتی صاحب ! کل ایک مسئلہ درپیش ہو گیا، یہاں ہمارے ہاں مسجدوں میں اعلانات ہو گئے کہ کل عید ہے تو جو اعتکاف والے تھے وہ اپنے گھروں کو چلے گئے، پھر 2 گھنٹے بعد پھر سے اعلانات ہوئے کہ کل عید نہیں ہے، روزہ ہے تو ابھی اعتکاف والے کیا کریں ؟ بہت سے معتکف تو واپس چلے گئے مسجد سے، اس مسئلے کا جلد ازجلد جواب چاہیے۔
واضح رہے کہ دورانِ اعتکاف اگر معتکف بلا ضرورت شرعی مسجد سے ایک لمحے کے لیے بھی باہر نکل جائے، خواہ جان بوجھ کر، بھول کر یا کسی کے نکالنے کی وجہ سے، ہر صورت میں اس کا اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب کہ ابھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا تھا اور معتکفین مسجد سے باہر نکل گئے تو ان کا اعتکاف فاسد ہوگیا، چونکہ چاند نظر آنے کی جھوٹی خبر کی وجہ سے معتکف مسجد سے باہر آیا، اس لیے گناہ گار نہیں ہوگا، تاہم اب اس کے ذمہ اس اعتکاف کی قضا لازم ہے۔ قضا راجح قول کے مطابق ایک دن اور ایک رات ہوگی، جس کا طریقہ یہ ہے کہ رمضان میں یا رمضان کے بعد قضا کرے یعنی کسی دن سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد چلا جائے اور اگلے دن کا روزہ رکھے اور اگلے دن سورج غروب ہونے کے بعد واپس آ جائے۔
*الدرالمختار:(447/2،ط: دارالفكر)* (فلو خرج) ولو ناسيا (ساعة) زمانية لا رملية كما مر (بلا عذر فسد) فيقضيه إلا إذا أفسده بالردة واعتبرا أكثر النهار قالوا: وهو الاستحسان وبحث فيه الكمال (و) إن خرج (بعذر يغلب وقوعه) وهو ما مر لا غير (لا) لا يفسد وأما ما لا يغلب كإنجاء غريق وانهدام مسجد فمسقط للإثم لا للبطلان وإلا لكان النسيان أولى بعدم الفساد كما حققه الكمال خلافا لما فصله الزيلعي وغيره. *العناية شرح الهداية:(393/2،ط: دارالفكر)* ولو شرع فيه ثم قطعه لا يلزمه القضاء في رواية الأصل لأنه غير مقدر فلم يكن القطع إبطالا. وفي رواية الحسن: يلزمه لأنه مقدر باليوم كالصوم. *الشامية:(2/444،ط:دارالفكر)* أما النفل) أي الشامل للسنة المؤكدة ح.قلت: قدمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بناء على أنها مقدرة بالعشر الأخير ومفاد التقدير أيضا اللزوم بالشروع تأمل ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوبا أربعا لا على قولهما اهـ أي يلزمه قضاء العشر كله لو أفسد بعضه كما يلزمه قضاء أربع لو شرع في نفل ثم أفسد الشفع الأول عند أبي يوسف، لكن صحح في الخلاصة أنه لا يقضي لا ركعتين كقولهما نعم اختار في شرح المنية قضاء الأربع اتفاقا في الراتبة كالأربع قبل الظهر والجمعة وهو اختيار الفضلي وصححه في النصاب وتقدم تمامه في النوافل وظاهر الرواية خلافه وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه.