السلام علیکم مفتی صاحب!
رمضان المبارک میں حیض روکنے والی گولی کھانا جائز ہے کہ نہیں؟
واضح رہے کہ کوئی دوا استعمال کر کے حیض روکنا اگرچہ شرعاً جائز ہے، لیکن اطبا اسے صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں ۔
تاہم اگر کسی عورت نے ایسی دوا استعمال کی جس سے اسے حیض نہیں آیا تو اس عورت پر نماز اور روزے بدستور فرض رہیں گے، چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہوگی ۔
*الشامية:(1/ 283، ط: دارالفکر)*
"(قوله: ابتلاء الله لحواء إلخ) أي وبقي في بناتها إلى يوم القيامة، وما قيل: إنه أول ما أرسل الحيض على بني إسرائيل فقد رده البخاري بقوله وحديث النبي صلى الله عليه وسلم أكبر، وهو ما رواه عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحيض: هذا شيء كتبه الله على بنات آدم». قال النووي: أي إنه عام في جميع بنات آدم".
*ایضًا:(1/308)*
"وبرده لایبقی ذا عذر، بخلاف الحائض.
(قوله: بخلاف الحائض) ... وهذا إذا منعته بعد نزوله إلی الفرج الخارج، کما أفاده البرکوي، لما مرّ أنه لایثبت الحیض إلا بالبروز، لا بالإحساس به، خلافاً لمحمد، فلو أحست به فوضعت الکرسف في الفرج الداخل ومنعته من الخروج فهي طاهرة، کما لو حبس المني في القصبة".
*’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ :(4/570،ط: مکتبہ لدھیانوی)*
’’یہ تو واضح ہے کہ جب تک ایام شروع نہیں ہوں گے عورت پاک ہی شمار ہوگی، اور اس کو رمضان کے روزے رکھنا صحیح ہوگا، رہا یہ کہ روکنا صحیح ہے یا نہیں؟ تو شرعاً روکنے پر کوئی پابندی نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ فعل عورت کے لیے مضر ہو تو جائز نہیں‘‘.