مفتی صاحب !
روزے سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ روزے کی نیت کب تک کرسکتے ہیں ؟
واضح رہے کہ روزے کے لیے نیت کرنا ضروری ہے نیت کے بغیر روزہ نہیں ہوگا، نیت دل میں ارادہ کر نے کا نام ہے، البتہ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بہتر ہے۔
رمضان میں رات ہی کو نیت کرنا مستحب ہے، لیکن اگر رات کو نیت نہ ہو سکے تو نصفِ نہارِ سے پہلے پہلے نیت کی جا سکتی ہے۔
نصفِ نہارِ سے مراد یہ ہے کہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کے وقت کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے، تو جو درمیانی وقت ہے وہ نصفِ نہارِ شرعی کہلاتا ہے؛ اس سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے،مثلا اگر روزے کا کل دورانیہ پندرہ (15) گھنٹے بنتا ہو تو صبح صادق سے ساڑھے سات (7.5) گھنٹے گزرنے سے پہلے تک روزے کی نیت کرنا درست ہے،فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ رمضان المبارک میں روزے کی نیت سے سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے۔
*الدرالمختار:(377/2،ط: دارالفكر)*
(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل) فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى لا) بعدها ولا (عندها) اعتبارا لأكثر اليوم (وبمطلق النية) أي نية الصوم.
*وأيضاً:(377/2،ط: دارالفكر)*
(قوله: إلى الضحوة الكبرى) المراد بها نصف النهار الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس والغاية غير داخلة في المغيا كما أشار إليه المصنف بقوله لا عندها. اهـ.
*مراقي الفلاح:(238/1،ط:المكتبة العصرية)*
فهو أداء رمضان والنذر المعين زمانه والنفل فيصح بنية من الليل إلى ما قبل نصف النهار على الأصح ونصف النهار من طلوع الفجر إلى وقت الضحوة الكبرى.