السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ کے بارے میں معلومات کرنی تھی کہ نکاح کے وقت لڑکی سے کیسے اجازت لی جائے یعنی جب اجازت لی جائے تو اس وقت مہر بتانا ضروری ہے کہ اتنے مہر میں نکاح کیا جا رہا ہے یا نہیں؟
آج کل صرف پیپر پر اس سے سائن کروا لیا جاتا ہے، باقی اس کو کچھ نہیں بتایا جاتا اور اگر اس کو مہر بتائے بغیر نکاح کیا جائے تو نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ مہر عورت کا حق ہے جو نکاح کے نتیجے میں شوہر کے ذمے لازم ہوتا ہے، مہر کو عورت کے احترام، عزت اور تحفظ کی علامت قرار دیا ہے، اسی لیے نکاح کے وقت مہر مقرر کرنا اور لڑکی کو بتانا ضروری ہے، تاکہ کسی قسم کا اختلاف یا ابہام باقی نہ رہے۔
البتہ اگر نکاح سے پہلے ہی مہر کی مقدار طے ہو چکی ہو اور فریقین کو اس کا علم ہو اور عقد کے وقت دوبارہ مہر کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
*القرآن الکریم: (النساء:4:4)*
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً.
*ایضاً:(النساء:24:4)*
فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً.
*البناية شرح الهداية:(132/5،ط:دار الكتب العلمية)*
(لأنه حقها) ش: أي لأن المهر حق المرأة م: (فيكون التقدير) ش: أي تقدير المهر م: (إليها) ش: ولهذا يملك التصرف فيه استيفاء وإسقاطا كالبيع والإجارة والكفالة.