طواف و سعی

نفلی طواف کے بعد سعی کا حکم

فتوی نمبر :
2110
عبادات / حج و عمرہ / طواف و سعی

نفلی طواف کے بعد سعی کا حکم

مفتی صاحب!
عرض یہ ہے کہ عمرہ کے بعد اگر صرف طواف کریں تو اس کے بعد صفا مروہ کی سعی ضروری ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نفلی طواف کے بعد سعی بھی نفلی ہوگی اور نفلی سعی کرنا مشروع نہیں ہے، کیونکہ سعی صرف حج اور عمرے کے واجبات میں سے ہے، لہذا نفلی طواف کے بعد نفلی سعی نہیں کی جائے گی۔

حوالہ جات

*در المختار :(2/ 502،ط:دارالفکر)*
(وطاف بالبيت نفلا ماشيا) بلا رمل وسعي وهو أفضل من الصلاة نافلة للآفاقي وقلبه للمكي. وفي البحر: ينبغي تقييده بزمن الموسم وإلا فالطواف أفضل من الصلاة مطلقا.

*ردالمختار :(2/ 502،ط:دارالفکر)*
(قوله بلا رمل وسعي) لأن الرمل وكذا الاضطباع تابعان لطواف بعده سعي من واجبات الحج والعمرة فقط، وهذا الطواف تطوع فلا سعي بعده قال في الشرنبلالية عن الكافي ‌لأن ‌التنفل ‌بالسعي غير مشروع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 2110کی تصدیق کریں