طواف و سعی

ایک وقت میں ایک سے زیادہ طواف کا حکم

فتوی نمبر :
2043
عبادات / حج و عمرہ / طواف و سعی

ایک وقت میں ایک سے زیادہ طواف کا حکم

مفتی صاحب !
طواف ایک وقت میں کتنے کرسکتے ہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نفلی طواف ایک نیک عمل ہے اس کے لیے نہ کوئی وقت مقرر ہے اور نہ ہی کوئی حد ، لہذا آپ ایک وقت میں جتنے چاہیں طواف کرسکتے ہیں ، بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص نے بیت اللہ کا پچاس مرتبہ طواف کیا، وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے، جیسا کہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا۔

حوالہ جات

*القرآن الكريم:(البقرة 197:2)*
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(197)

*سنن الترمذي:(رقم الحديث:866،ط:دار الغرب الإسلامي)*
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌طاف ‌بالبيت» ‌خمسين ‌مرة خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه..

*فيض القدير: (6/ 175،ط:المكتبة التجارية الكبرى)*
8835 - (من طاف بالبيت خمسين مرة) قيل أراد بالمرة الشوط ورد وقيل أراد خمسين أسبوعا (خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه) والمراد أن الخمسين توجد في صحيفته ولو في عمره كله لا أنه يأتي بها متوالية...

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
19
فتوی نمبر 2043کی تصدیق کریں