طواف و سعی

ناپاک کپڑوں میں طواف کاحکم

فتوی نمبر :
1260
عبادات / حج و عمرہ / طواف و سعی

ناپاک کپڑوں میں طواف کاحکم

اگر کسی شخص نے ناپاک کپڑوں میں طواف کر لیا تو کیا اس کا طواف درست ہو جائے گا یا اسے دوبارہ طواف کرنا ہوگا؟ اور کیا اس پر دم (قربانی) واجب ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ناپاک کپڑوں میں طواف کرنے سے طواف ادا ہو جائے گا اور کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا، مگر یہ عمل کراہت سے خالی نہیں۔

حوالہ جات

*المحيط البرهاني:(2/ 464،ط:دار الكتب العلمية)*
ولو طاف طواف الزيارة وفي ‌ثوبه ‌نجاسة ‌أكثر ‌من ‌قدر ‌الدرهم ‌أجزأه ولكن مع الكراهة، ولا يلزمه شيء.

*الهندية:(1/ 246،ط:دارالفکر)*
ولو طاف طواف الزيارة وفي ‌ثوبه ‌نجاسة ‌أكثر ‌من ‌قدر ‌الدرهم ‌أجزأه ولكن مع الكراهة ولا يلزمه شيء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 1260کی تصدیق کریں