آمدنی و مصارف

بینک اکاؤنٹ سے کسی کی رقم نکالنے پر کمیشن لینا

فتوی نمبر :
2034
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بینک اکاؤنٹ سے کسی کی رقم نکالنے پر کمیشن لینا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہے سب خیر وعافیت سے ہوں گے ۔میرے دوست نے مجھے کہا کہ میں آپ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کر رہا ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے ۔میں اس سے پہلے نان فائلر تھا، اس کی وجہ سے میں نے سالانہ ٹیکس بینک کا بھر دیا جس سے میں فائلر بن گیا، اب وہ دوست 10 لاکھ روپے جمع کرتا ہے اور کسی بھی وقت وہ کم، زیادہ یا ساری رقم واپس مانگتا ہے تو ہر ایک لاکھ روپے پر بینک 800 روپے اضافی کٹوتی کرتا ہے، مگر جو فائلر ہو اس سے کوئی کٹوتی نہیں ہوتی، میں فائلر ہوں اگر بینک مجھے سے کٹوتی نہ کرے، مگر میں اس سے کٹوتی کروں تو کیا میرے لئے شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ جزاک اللّہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت اگر آپ اپنے دوست کو اتنی رقم نکال کر دیں، جس پر آپ سے بینک کٹوتی نہیں کر رہا تو آپ کے لیے بھی رقم کاٹنا جائز نہیں، تاہم چونکہ آپ نے اس دوست کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں وصول کی اور پھر اسے اکاؤنٹ سے نکلوا کر بھی دی، اگر آپ اپنے دوست سے اس پر کوئی کمیشن طے کر لیں تو وہ کمیشن وصول کرنا آپ کے لیے جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات

*فقه البیوع: (1/512،ط:ادارۃ المعارف)*
الصور المتعارفة للجمع بین صفقات:
ومما تعورف في عصرنا أن الناس یلتزمون تقدیم مجموعة من الخدمات في صفقةواحدة، بعضها ترجع إلى الإجارات، وبعضها ترجع إلى البيوع، فوكلاء السفر يُقدمون خدمات الحج والعمرة مثلاً، فيلتزمون جميع حاجات المسافر في صفقة واحدة، بما فيها الحصول على التأشيرة، وإكمال الإجراءات القانونية، وتذاكر عدة من الأسفار الجوية والبرية، والإقامة في فنادق، أو في الخيام في مواضع متعددة، وثلاث وجباتِ للأكل يوميًا، مع جهالة نوعها ومقدارها، ويتقاضون لهذه المجموعة أجراً مقطوعاً. فهذه مجموعة عدة عقودٍ بعضها إجارات، وبعضها بيوع، وكلُّ واحدٍ منها مشروط بالعقود الأخرى.
وكذلك أجر الإقامة في بعض الفنادق تشمل الفطور، أو الوجبات الثلاثة مع الجهالة في نوعها وقدرها. فظاهر القياس أن لا يجوز؛ لأنه اشتراط صفقات في صفقة واحدة، مع الجهالة فيما هو مبيع، ولكن جرى به التعامل من غير نكير، والجهالة غير مُفضية إلى النزاع، فصار هذا المجموع جائزاً.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 2034کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --