وقف

مسجد کے لیے خریدی گئی زمین کو بیچنا

فتوی نمبر :
1863
معاملات / امانات / وقف

مسجد کے لیے خریدی گئی زمین کو بیچنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے مسجد کے لئے پانچ عدد پلاٹ خرید لیے، جس کی قیمت تین مہینے میں پورا کرنی تھی، اب تین مہینے گزر چکے ہیں اور وہ قیمت پوری نہیں ہوئی، اب کمیٹی والے پانچ پلاٹوں میں سے دو عدد پلاٹ فرخت کرنا چاہتے ہیں، تاکہ جو رقم بقایا ہے اس کو پورا کرسکیں اور مسجد کے لئے تین پلاٹ رہ جا ئیں گے، کیا اس طرح دو عدد پلاٹ فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ وقف کی گئی زمین ہمیشہ کے لیے وقف کرنے والے کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور وقف مکمل ہونے کے بعد اس کو بیچنا، کسی کو ہبہ کرنا یا وقف تبدیل کرنا جائز نہیں،
نیز واضح رہے کہ جو جگہ مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو تو یہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی اور قیامت تک مسجد کے حکم میں رہے گی، اسے گرانا اور تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں مسجد کےلیے وقف کی گئی زمین کو بیچنا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

*الفتاوى الهندية: (2/ 350، ط :دار الفكر)*
وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما.

*حاشية ابن عابدين: (57/5 ط: سعید)*
والحاصل أن ههنا مسألتين: الأولى أن بيع الوقف باطل ولو غير مسجد.

*فتح القدیر:(220/6، ط:دار الفکر )*
(قوله: وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1863کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --