حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

دو فریقوں کے درمیان صلح کرانے پر اجرت لینے کا حکم

فتوی نمبر : 1787 0000-00-00 62 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

ہمارے علاقوں میں رائج طریقوں کے مطابق لوگوں کے مسائل اور جھگڑوں کے حل کے لیے جرگے اور مصالِحین آتے ہیں، ہر مصالِح یا ثالث روزانہ ایک ہزار یا دو ہزار افغانی اجرت لیتا ہے، بعض جرگے ایک مہینہ تک بھی چلتے ہیں، جب جھگڑا کسی فیصلے تک پہنچتا ہے چاہے وہ فیصلہ ظالمانہ ہو یا درست تو فیصلے کے سناوے اور ابلاغ کے ساتھ ساتھ روزانہ کی اجرت کے علاوہ 30,000 (تیس ہزار) سے 50,000 (پچاس ہزار) تک رقم، جسے مقامی زبان میں حلّات کہا جاتا ہے، ثالث (جرگہ والے) لوگ لیتے ہیں۔ سوال تین نکات پر مشتمل ہے: 1. کیا مصالِح یا ثالث روزانہ اجرت لے سکتا ہے؟ 2. اگر لے سکتا ہے تو شریعت میں کتنا مقررہ معاوضہ جائز ہے؟ 3. فیصلے کے بعد ہزاروں روپے (حلّات کے نام پر) لینا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کرنا تحکیم کہلاتا ہے اور تحکیم قضا کی طرح ہے، جس طرح قضا پر اجرت لینا جائز ہے، اسی طرح تحکیم پر بھی اجرت لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ (1)جرگہ کرنے والوں میں فریقین کے درمیان مصالحت کرنے کی اہلیت ہو۔ (2)ان کا فیصلہ شریعت سے متصادم نہ ہو۔ (3) بیت المال یا عوام کی طرف سے ان کا کوئی وظیفہ مقرر نہ ہو۔ (4) فیصلہ کرنے سے پہلے اجرت متعین کی گئی ہو۔ (5) فریقین سے برابر سرابر اجرت وصول کریں، کسی سے کم اور کسی سے زیادہ وصول نہ کریں۔ (6) فریقین کی ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت زیادہ اجرت وصول نہ کریں۔ تاہم بعض مقامات پر جرگہ کرنے والوں کی طرف سے فریقین پر مالی جرمانہ مقرر کیا جاتا ہے یا ضمانت میں رکھی ہوئی رقم جرگہ کرنے والے آپس میں بانٹ لیتے ہیں یا اجرتِ مثل کے علاوہ فریقین کو پُرتکلف دعوتوں پر مجبور کرتے ہیں، یہ تمام امور ناجائز ہیں، ان سے اجتناب ضروری ہے۔

*عمدة القاري:(186/11،ط:داراحياء التراث العربي)* فضيلة أبي بكر وزهده وورعه غاية الورع. وفيه: أن للعامل أن يأخذ من عرض المال الذي يعمل فيه قدر عمالته إذا لم يكن فوقه إمام يقطع له أجرة معلومة، وكل من يتولى عملا من أعمال المسلمين يعطي له شيء من بيت المال لأنه يحتاج إلى كفايته وكفاية عياله، لأنه إن لم يعط له شيء لا يرضى أن يعمل شيئا فتضيع أحوال المسلمين. وعن ذلك قال أصحابنا: ولا بأس برزق القاضي، وكان شريح، رضي الله تعالى عنه، يأخذ على القضاء. ذكره البخاري في: باب رزق الحكام والعاملين عليها، ثم القاضي إن كان فقيرا فالأفضل بل الواجب أخذ كفايته من بيت المال، وإن كان غنيا فالأفضل الامتناع، رفقا ببيت المال. وقيل: الأخذ هو الأصح صيانة للقضاء عن الهوان، لأنه إذا لم يأخذ لم يلتفت إلى أمور القضاء كما ينبغي لاعتماده على غناه، فإذا أخذ يلزمه حينئذ إقامة أمور القضاء. *الهداية:(108/3،ط:دار احیاء التراث العربي)* وإذا حكم رجلان رجلا فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز" لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما وينفذ حكمه عليهما، وهذا إذا كان المحكم بصفة الحاكم لأنه بمنزلة القاضي فيما بينهما فيشترط أهلية القضاء. *البحر الرائق شرح کنز الدقائق:(237/8،ط: دارالکتاب الاسلامی)* قال: - رحمه الله - (ورزق القاضي) يعني وحل رزق القاضي من بيت المال لأن بيت المال أعد لمصالح المسلمين ورزق القاضي منهم؛ لأنه حبس نفسه لنفع المسلمين «وفرض النبي - صلى الله عليه وسلم - لعلي لما بعثه إلى اليمن» وكذا الخلفاء من بعده هذا إذا كان بيت المال جمع من حل فإن جمع من حرام وباطل لم يحل؛ لأنه مال الغير يجب رده على أربابه ثم إذا كان القاضي محتاجا فله أن يأخذ ليتوصل إلى إقامة حقوق المسلمين؛ لأنه لو اشتغل بالكسب لما تفرغ لذلك وإن كان غنيا فله أن يأخذ أيضا وهو الأصح لما ذكرنا من العلة ونظرا لمن يأتي بعده من المحتاجين ولأن رزق القاضي إذا قطع في زمان يقطع الولادة بعد ذلك لمن يتولى بعده هذا إذا أعطوه من غير شرط فلو أعطاه بالشرط كان معاقدة وإجارة لا يحل أخذه لأن القضاء طاعة فلا يجوز أخذ الأجر عليه كسائر الطاعات اهـ.ولك أن تقول: يجوز أخذ الأجرة عليه كما قالوا الفتوى على جواز أخذ أجرة على تعليم القرآن وغيره كما تقدم في كتاب الإجارة ولا يقال هذا مكرر مع قول المؤلف: وكفاية القضاة في باب الجزية؛ لأنا نقول ذلك باعتبار ما يجوز للإمام دفعه وهذا باعتبار ما يجوز للقاضي تناوله فلا تكرار قال الشارح: وتسميته رزقا يدل على أنه يأخذ منه مقدار كفايته وعيلته وليس له أن يأخذ أزيد من ذلك وقد جرى الرسم بالإعطاء في أول السنة. *نيل الأوطار للشوكانى:(276/3،ط:دارابن الجوزی)* وقال ابن العربي: الصحيح جواز أخذ الأجرة على الأذان والصلاة والقضاء وجميع الأعمال الدينية.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
سود پر بینک سے قرضہ لینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چوری کیے ہوئے مال كاحكم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جی پی فنڈ (G.P Funds) کے احکام
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
یوٹیوب کی کمائی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قبرستان سے چوری کر کے عورتوں کے بال بیچنے کا شرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
آن لائن ٹریڈنگ کی مخصوص صورت کا حکم اور مذکورہ آمدن سے کی گئی دعوت کھانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
فجر کی نماز وقت ختم ہونے کے بعد پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کریڈٹ کارڈ کا استعمال
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اسکول، مدرسے کی فیس لیٹ ہونی کی صورت میں مالی جرمانہ لینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
گٹارکے خریدوفروخت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوٹی پارلر میں مساج کرنے والی خواتین کی کمائی کا شرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
سودی مال سے بنائے گئے گھر، دکان کو کرائے پر لینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مجبوری میں رشوت دینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو ملنے والے وظیفے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
آن لائن شناختی کارڈ بنانے پر کمیشن لینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
غیر مسلم ممالک میں رہائش کی ضرورت پر سودی قرض لینا کیسا ہے ؟
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
انشورنس کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ڈاکٹرز کا ادویات میں کمیشن لینا اور کمپنی سے قرض لے کر اس کے بدلے کمپنی کی پروڈکٹس خریدنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اسٹوڈیو کے لیے ویب سائٹ بنانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک کے لیے سوفٹ ویئر بنانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک سے گھر بنانے کے لیے قرض لینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک میں بطور کیشیر کام کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
رشوت کے پیسوں سے بنایا ہوا گھر اس کے کرایہ کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
موبائل کمپنی کا قرض پر اضافی رقم لینا