اگر کوئی شخص ابوظہبی سے عمرہ کرنے کے لیے جا رہا ہو اور مکہ مکرمہ میں 10 دن قیام کا ارادہ ہو تو مکہ پہنچ کر وہ نماز پوری پڑھے گا یا قصر کرے گا؟"
کوئی شخص جب اپنے شہر یا علاقے سے باہر تین دن تین رات کی مسافت یعنی 48 میل شرعی (سوا ستتر کلومیٹر) سفر کے ارادے سے نکلے، ایسا شخص شرعاً مسافر ہوتا ہے، اگر اس کا ارادہ اس مقام پر پندرہ دن سے کم قیام کا ہو اور وہ جگہ اس کا وطنِ اصلی یا وطنِ اقامت نہ ہو تو اس پر چار رکعت والی نمازوں میں دو رکعت پڑھنا لازم ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور اگر مکہ کا رہائشی نہیں تو دس دن قیام کی وجہ سے وہ مقیم نہ ہو گا، بلکہ مسافر ہی ہے اور اس پر قصر نماز پڑھنا واجب ہے۔
*الاختيار لتعليل المختار:(79/1،ط:دار الكتب العلمية)*
قال: (ولا يزال على حكم السفر حتى يدخل مصره أو ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مصر أو قرية) لأن السفر إذا صح لا يتغير حكمه إلا بالإقامة، والإقامة
وإن نوى أقل من ذلك فهو مسافر وإن طال مقامه.
*الهندية:(139/1،ط: دارالفكر)*
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.