آمدنی و مصارف

حکومت کے سودی قرض لینے کا گناہ

فتوی نمبر :
1646
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

حکومت کے سودی قرض لینے کا گناہ

حکومت پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے سود پر قرض لیتی ہے، کیا اس گناہ میں عام عوام بھی شامل ہیں اور وہ اس گناہ کے ذمہ دار ہیں یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومت جب آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے سود پر قرض لیتی ہے تو یہ عمل حرام اور ناجائز ہے، کیونکہ سود اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے، لیکن اس سودی قرض کا گناہ صرف اُن حکومتی افراد اور اداروں پر ہے جو یہ معاہدے کرتے ہیں، دستخط کرتے ہیں، سودی نظام کو چلانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اسے برقرار رکھتے ہیں، عوام اس گناہ میں شامل نہیں، کیونکہ وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں ہوتے اور نہ انہیں اس پر اختیار حاصل ہوتا ہے، البتہ مسلمانوں کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ دل سے سود کو برا سمجھیں اور اپنی ذاتی زندگی میں سود سے بچنے کی کوشش کریں۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(الفاطر:18:35)*
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ .

*موسوعة التفسير المأثور:(754/8،ط:دار ابن حزم)*
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
عن عبد الله بن عباس، في قوله: ﴿ولا تزر وازرة وزر أخرى﴾، قال: لا يُؤْخذُ أحدٌ بذنبِ غيره.
عن قتادة بن دعامة، في قوله: ﴿ولا تزر وازرة وزر أخرى﴾، قال: لا يحملُ الله على عبدٍ ذنبَ غيره، ولا يُؤاخِذُه إلا بعمله.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
20
فتوی نمبر 1646کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --