فطرہ

بالغ اولاد کے صدقہ فطر کا حکم

فتوی نمبر :
1553
عبادات / زکوۃ و صدقات / فطرہ

بالغ اولاد کے صدقہ فطر کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا:اگر کسی شخص کے بچے بالغ ہو چکے ہوں، لیکن وہ ابھی تک خود کمائی کے قابل نہ ہوں اور اپنے والد کے زیرِ کفالت ہوں، جبکہ والد ملک سے باہر مقیم ہو تو ایسی صورت میں ان بچوں کا فطرہ کس پر واجب ہوگا؟
کیا والد ان کا فطرہ ادا کرے گا یا ہر بالغ بچہ اپنا فطرہ خود ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بالغ اولاد کا صدقۂ فطر والد پر واجب نہیں ہوتا، چاہے اولاد صاحبِ نصاب ہو یا نہ ہو، البتہ اگر والد بالغ اولاد کی اجازت سے ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کر دے تو ادا ہوجائے گا۔

حوالہ جات

*الھندیة:(193/1،ط: دار الفكر)*
ولا يؤدي عن زوجته، ولا عن أولاده الكبار، وإن كانوا في عياله، ولو أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا كذا في الهداية. وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان. ولا يجوز أن يعطي عن غير عياله إلا بأمره كذا في المحيط.

*الدر المختار مع رد المحتار:(363/2،دار الفكر)*
ولو ادی عنھما بلا اذنٍ اجزا استحساناً للاذن عادۃً ای لو فی عیالہ والا فلا

(قوله: ولو أدى عنهما) أي عن الزوجة والولد الكبير.
وقال في البحر: وظاهر الظهيرية أنه لو أدى عمن في عياله بغير أمره جاز مطلقا بغير تقييد بالزوجة والولد. اهـ. (قوله: أجزأ استحسانا) وعليه الفتوى خانية

*روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا:(141،ط: بيت العمار كراچی)*

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1553کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --