کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے صدقہ فطر کی رقم سے کوئی چیز خریدی اور پھر اسے صدقہ فطر کی نیت سے کسی مستحق کو دے دیا تو کیا ایسے صدقہ فطر ادا ہو جائے گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی کا اصل مقصد فقرا و مساکین کی مدد اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے، اس لیے صدقۂ فطر میں ایسی چیزیں دینا جائز ہے جن سے ان(فقرا) کی ضرورت پوری ہو جائے، البتہ نقد رقم کی صورت میں زکوٰۃ اور صدقۂ فطر ادا کرنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
*البحر الرائق:(217/2،ط: دارالکتاب الاسلامی)*
ولهذا ذكر الولوالجي وغيره أنه لو عال يتيما فجعل يكسوه ويطعمه وجعله من زكاة ماله فالكسوة تجوز لوجود ركنه، وهو التمليك، وأما الإطعام إن دفع الطعام إليه بيده يجوز أيضا لهذه العلة.
*الشامية:(257/2،ط:دارالفكر)*
فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة.
*أيضا:(365/2)*
وما لم ينص عليه كذرةوخبز يعتبر فيه القيمة.
*الهندية:(192/1،ط:دارالفكر)*
والدراهم أولى من الدقيق لدفع الحاجة، وما سواه من الحبوب لا يجوز إلا بالقيمة وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة.