آمدنی و مصارف

انسانی جسم کےکٹے ہوئے بالوں کاحکم

فتوی نمبر :
1191
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

انسانی جسم کےکٹے ہوئے بالوں کاحکم

انسان کے جسم سے کاٹے گئے یا خود بخود جھڑ جانے والے بالوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں، اگر یہ ٹوٹ کر گر جائیں یا خود کاٹے جائیں تو بہتر ہے کہ انہیں دفن کر دیا جائے اور اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو تو کسی صاف ستھری جگہ ڈال دیے جائیں، البتہ گندی جگہ (غسل خانے وغیرہ)میں پھینکنا مناسب نہیں، کیونکہ اس میں بے ادبی بھی ہے اور بیماری لگنے کا باعث بھی ہے۔

حوالہ جات

*الهندية:(5/ 358،ط:دارالفکر)*
فإذا ‌قلم ‌أطفاره ‌أو ‌جز ‌شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.

*المحيط البرهاني:(5/ 376،ط:دار الكتب العلمية)*
ولو قلم أظفاره ‌أو ‌جز ‌شعره يجب أن يدفن، وإن رمى فلا بأس، وإن رماه في الكنيف والمغتسل فهو مكروه، ويغسل؛ لأنه يورث الدّاء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1191کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --