کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھ سے ایک آدمی نے دس سال پہلے پانچ سو روپے قرض لیے تھے اور اب تک واپس نہیں کیے ، اب دس سال کے بعد اگر وہ واپس کرتا ہے ، تو کتنی رقم واپس کرے گا کیوں کہ دس سال پہلے پانچ سو روپے کی جو قیمت تھی وہ آج بالکل بھی نہیں ہے ۔
براہ کرم اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں ۔
واضح رہے کہ قرض کی صورت میں جتنی رقم لی گئی تھی اتنی ہی رقم قرض خواہ کو واپس کرنا لازم ہے ، اس میں مارکیٹ ریٹ کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ، اور نہ ہی قرض دینے والے کو اس طرح کے مطالبہ کی گنجائش ہے ۔
الدرالمختار : (5/ 162، ط: دارالفكر)
استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف .
الفقه الإسلامي وأدلته: (5/ 3739، ط: دارالفكر)
{وإن تبتم فلكم رؤوس أموالكم لا تَظْلِمون ولا تُظْلَمون} [البقرة:2/ 279] أي لا تَظْلمون بأخذ زيادة على رأس المال، ولا تُظْلَمون بنقص شيء من رأس المال، بل لكم ما دفعتم من غير زيادة ولا نقصان. .
ايضاً: (5/ 3786، ط: دارالفكر)
واصطلاحاً عند الحنفية: هو ما تعطيه من مال مثلي لتتقاضاه. أو بعبارة أخرى: هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله.