کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے عمرہ ادا کیا مگر سر کے بال نہیں منڈوائے اور نہ ہی کٹوائے ، پوچھنا یہ ہے کہ میرا عمرہ ادا ہوگیا یا پھر مجھ پر دم لازم ہوگیا ؟
لیکن اگلے دن صبح اٹھ کر میں نے مسجد عائشہ پر جا کرنیت کی اس کے بعد دوبارہ عمرہ کیا اور سر کے بال بھی منڈوائے ۔
پوچھی گئی صورت میں عمرہ اد ا ہوگیا ہے ، البتہ حلق یا قصر کرنے سےپہلے دوسرے عمرے کا احرام باندھنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔
«الهداية (1/ 174،ط: دار احياء التراث العربي)
«ومن فرغ من عمرته إلا التقصير فأحرم بأخرى فعليه دم لإحرامه قبل الوقت " لأنه جمع بين إحرامي العمرة وهذا مكروه فيلزمه الدم وهو دم جبر وكفارة.»
الفتاوى الهندية» (1/ 254،ط:دارالفكر)
ومن فرغ من عمرته إلا التقصير فأحرم بأخرى فعليه دم لإحرامه قبل الوقت وهو دم جبر وكفارة، كذا في الهداية ۔