احکام عمرہ

عمرہ کرنے کے بعد حلق یا قصرنہ کرنے کی وجہ دم کا واجب ہونا

فتوی نمبر :
1125
عبادات / حج و عمرہ / احکام عمرہ

عمرہ کرنے کے بعد حلق یا قصرنہ کرنے کی وجہ دم کا واجب ہونا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے عمرہ ادا کیا مگر سر کے بال نہیں منڈوائے اور نہ ہی کٹوائے ، پوچھنا یہ ہے کہ میرا عمرہ ادا ہوگیا یا پھر مجھ پر دم لازم ہوگیا ؟
لیکن اگلے دن صبح اٹھ کر میں نے مسجد عائشہ پر جا کرنیت کی اس کے بعد دوبارہ عمرہ کیا اور سر کے بال بھی منڈوائے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں عمرہ اد ا ہوگیا ہے ، البتہ حلق یا قصر کرنے سےپہلے دوسرے عمرے کا احرام باندھنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔

حوالہ جات

«الهداية (1/ 174،ط: دار احياء التراث العربي)
«ومن ‌فرغ ‌من ‌عمرته ‌إلا ‌التقصير فأحرم بأخرى فعليه دم لإحرامه قبل الوقت " لأنه جمع بين إحرامي العمرة وهذا مكروه فيلزمه الدم وهو دم جبر وكفارة.»

الفتاوى الهندية» (1/ 254،ط:دارالفكر)
ومن ‌فرغ ‌من ‌عمرته ‌إلا ‌التقصير فأحرم بأخرى فعليه دم لإحرامه قبل الوقت وهو دم جبر وكفارة، كذا في الهداية ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
87
فتوی نمبر 1125کی تصدیق کریں