ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر میرا بیٹا ہوا تو ایک بکری اللّہ کے نام پر دوں گا، کیا اب اس بکری میں سے وہ خود یا اس کی اولاد کھا سکتی ہے ؟
واضح رہے کہ نذر ماننے والا نہ تو خود نذر میں سے کچھ کھا سکتا ہے، نہ ہی اپنے اہل و عیال اور مالدار کو کھلا سکتا ہے ، اگر کسی صاحب نصاب کو اس میں سے کھلا دیا تو اس کے بقدر قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں شخص مذکور اس بکری میں سے نہ خود کھا سکتا ہے اور نہ اس کی اولاد کھا سکتی ہے، بلکہ مکمل بکری فقراء میں تقسیم کی جائے گی ۔
الدرالمختار : (6/ 321، ط: دارالفكر) ولا يأكل الناذر منها؛ فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 68، : دارالكتب العلمية ) وكذلك لو أوجب على نفسه أن يتصدق بها لا يأكل منها إذا ذبحها بعد وقتها أو في وقتها فهو سواء. المحيط البرهاني: (6/ 88، ط: دارالكتب العلمية ) إذا نذر ذبح شاة لا يأكل منها الناذر، ولو أكل فعليه قيمة ما أكل.