کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک ساتھی نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں فلاں آدمی کو چلے کے لیے بھیج دوں گا اور اس کا خرچہ میں اٹھاؤں گا ،لیکن اس کا وہ کام نہیں ہوا ، اب آیا اس پر نذر پوری کرنا لازم ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ نذر کے صحیح ہونے کے لیے لازم ہے جس چیز کی نذر مانی جائے اس کی جنس میں سے کوئی فرض یا واجب ہو، مثلاً نماز، روزہ، حج صدقہ وغیرہ ، لہذا پوچھی گئی صورت میں کسی کو چلے پر بھیجنا (تبلیغی جماعت میں وقت لگانا) شرعاً فرض یا واجب نہیں ، اس لیے اس کی نذر بھی شرعاً منعقد نہیں ہوئی ، اس لیے اگر وہ کام ہو بھی جائے پھر بھی کسی کو چلے کے لیے بھیجنا لازم نہیں۔
*الدر المختار:(335/3،ط: دارالفكر)* (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشيا فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة. *الهندية:(2/ 66، ط:دارالفكر)* قال: إن فعلت كذا فلله علي أن أضيف جماعة قرابتي فحنث لا يلزمه شيء.