السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہمارے ہاں ایک عورت ہے، اس کے بچے(حمل) ضائع ہو جاتے ہیں، اس نے کہا کہ جب تک میرا بچہ نہیں ہو جاتا میں روزے رکھوں گی، کچھ عرصہ اس نے روزے رکھے، مگر اب وہ اکثر بیمار رہتی ہے تو کیا نذر کے روزے رکھنا اب بھی اس پر لازم ہے یا چھوڑ سکتی ہے یا ان روزوں کا فدیہ دے گی؟ تنقیح: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مذکورہ عورت نے جو کہا ہے کہ جب تک میری اولاد نہیں ہوتی تو میں روزے رکھوں گی اس میں یہ وضاحت مطلوب ہے کہ کیا یہ نذر کے طور پر روزے رکھنا مراد تھا یا مقصد یہ تھا کہ میں روزے رکھوں گی، تاکہ اس کی برکت سے اللہ مُجھے اولاد عطا کرے؟ جواب تنقیح: عورت نے نذر مانی تھی کہ جب تک میرا حمل دوبارہ نہیں ٹھہر جاتا، تب تک میں روزے رکھوں گی، جب ٹھیک ہوں گی تو رکھوں گی اور اگر بیمار ہوں گی تو نہیں رکھوں گی اور دوبارہ حمل تک روزے رکھتی رہوں گی، مگر کچھ آٹھ، دس روزوں کے بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ بیمار رہنے لگی تو اس نے روزے رکھنا چھوڑ دیے، مگر پھر اس دوران اس کو حمل ٹھہر گیا اور پھر تین ماہ بعد ضائع ہو گیا، اب وہ پوچھ رہی ہے کہ میرے لیے اب کیا حکم ہے؟ یہ اس کی نذر تھی کہ دوبارہ حمل ٹھہر جانے تک روزے رکھے گی، اس نے روزے نہیں رکھے، مگر اللہ تعالیٰ کے کرم سے حمل ٹھہرا اور تین ماہ بعد پھر سے ضائع ہوگیا۔ اب وہ کیا کرے؟
پوچھی گئی صورت میں جب مذکورہ عورت نے یہ الفاظ کہے کہ”جب تک میرا حمل نہیں ٹھہرتا میں روزے رکھوں گی، جب ٹھیک ہوں گی اور جب ٹھیک نہیں ہوں گی تو نہیں رکھوں گی۔“ اس سے نذر منعقد ہو گئی ہے، اس عورت پر جب وہ بیمار نہ ہو حمل ٹھہرنے تک روزے رکھنا لازم تھا اور اس نے روزے رکھے بھی ہیں ، اب چونکہ حمل ٹھہر چکا تھا، اس لیے وہ نذر پوری ہوگئی، اب اس کے بعد اس پر زورے لازم نہیں ۔
القرآن الكريم:(الحج: 29:22] {وليوفوا نذورهم} ایضاً:(الإسراء: 34:17) {وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا} الهندية:(65/2،ط:دارالفكر) ومما يتصل بذلك مسائل النذر) من نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء به كذا في الهداية الدر المختار مع رد المحتار: (735/3، ط: دار الفکر) (ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى»، (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشياً فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب؛ لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة ... (ثم إن) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوباً (إن وجد) الشرط.