نذر یا منت

انگوٹھی صدقہ کرنے،روزے رکھنے اور قرآن کا ختم کروانے کی نذر

فتوی نمبر :
1500
عبادات / نوافل عبادات / نذر یا منت

انگوٹھی صدقہ کرنے،روزے رکھنے اور قرآن کا ختم کروانے کی نذر

مفتیانِ کرام اس معاملے کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ اگر ایک عورت ایک محفل میں بیٹھی ہو اور وہاں کچھ عجیب باتیں ہو رہی ہوں، مثلاً کوئی کہے کہ اگر اللہ ہمیں بیٹا دے گا تو ہم یہ چیز دیں گے، ایک عورت نے کہا کہ اگر اللہ نے مجھے بیٹا دیا تو میں ایک سونے کی انگوٹھی جو اس کی ساس نے اسے نکاح میں دی تھی، وہ انگوٹھی اور 5 روزے اور 3 ختم کرواؤں گی۔ اللہ نے اسے بیٹا دے دیا۔ جبکہ اس عورت کے شوہر کو کاروبار میں نقصان ہوا اور شوہر نے کہا کہ آپ کسی کو کچھ بھی نہ دینا۔ سونا چاندی بھی نہ دینا۔ جبکہ اس سارے معاملے کا شوہر کو شروع سے پتہ نہیں تھا۔ اللہ نے اس عورت کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔ بیوی نے سارا معاملہ شوہر کو بتایا۔ یہ سب کچھ عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر کیا۔ شوہر کو نہیں بتایا۔ جبکہ شوہر منع کر رہا تھا دینے سے۔"
اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نذر کے منعقد ہونے کے لیے یہ شرائط پایا جانا ضروری ہے:
1) جس چیز کی نذر مانی جائے اس کی جنس سے شرعاً کوئی فرض ہو مثلا روزہ، نماز، صدقہ و اعتکاف وغیرہ کی نذر کرنا، پس عیادت کرنا، جنازہ کے ساتھ چلنا، مسجد میں داخل ہونا وغیرہ کی نذر کرنا صحیح نہیں ہے اور اس سے کچھ لازم نہیں ہوگا۔
2) وہ چیز جس کی نذر مانی جائے بالذات مقصودہو وسیلہ نہ ہو، پس وضو، سجدہِ تلاوت، تلاوتِ قرآن مجید، دخولِ مسجد وغیرہ کی نذرصحیح نہیں ہوگی۔
3) جس چیز کی نذر مانے وہ اس وقت یا کسی اور وقت میں واجب نہ ہو، پس اگر ظہر کی نماز یا کسی اور وقت کی نماز کی نذر کرے تو صحیح نہیں ہے۔
4) وہ چیز جس کی نذر مانی جائے اپنی ذات کے اعتبار سے گناہ کا کام نہ ہو، مثلاً: شراب پینا، کسی کو قتل کرنا وغیرہ کی نذر نہ ہو۔
5) جس کام کی نذر مانے اس کا ہونا محال نہ ہو، پس اگر کسی نے گزرے ہوئے دن کا روزہ رکھنے کی نذر مانی تو یہ نذر صحیح نہیں ہے، یعنی یہ نذر اس پر واجب نہیں ہوگی۔
6) نذر کے الفاظ زبان سے ادا کرنا، پس محض دل میں نیت کر لینے سے نذر لازم نہیں۔
8،7) جس قدر مال کی نذر اپنے اوپر واجب کی ہے، اسی قدر مال اس کی ملکیت میں موجود ہو اور وہ مال کسی دوسرے کی ملکیت نہ ہو۔
یہ دونوں شرطیں بعض صورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں، پس جس قدر مال کی نذر مانی ہے، اگر اس کے پاس اس سے کم ہے تو جس قدر اس کے پاس مال ہے، صرف اسی قدر صدقہ کرنا واجب ہوگا، مثلاً: اگر کسی نے نذر مانی کہ وہ اپنے مال میں سے ایک ہزار روپیہ صدقہ کرے گا اور اس کے پاس صرف سو روپے ہیں تو اس پر سو روپے صدقہ کرنا لازم ہے۔
9) اپنی نذر کے الفاظ کہتے وقت متصل ہی لفظ ان شاء اللہ نہ کہنا۔ پس اگر نذر کے الفاظ کے ساتھ متصل ہی لفظ ان شاء اللہ بھی کہا تو اس پر کچھ لازم نہ ہوگا اور وہ نذر باطل ہو جائے گی۔
(ماخوذ از زبدۃ الفقہ، ص:528 تا 530، ط:زوار اکیڈمی)
پوچھی گئی صورت میں عورت کے یہ کہنے سے کہ"اگر اللہ نے مجھے بیٹا دیا تو میں اپنی انگوٹھی صدقہ کروں گی اور روزے رکھوں گی" نذر منعقد ہوگئی ہے، لہذا انگوٹھی صدقہ کرنا اور روزے رکھنا لازم ہے، شوہر کا بیوی کو منع کرنا جائز نہیں ۔

البتہ اس کا یہ کہنا کہ "میں ختمِ قرآن کرواؤں گی"یہ نذر منعقد نہیں ہوئی، کیونکہ کسی اور سے ختم قرآن کرانا فرض یا واجب کے قبیل سے نہیں ۔

حوالہ جات

*ملتقى الأبحر:(274/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط يريده كأن قدم غائبي ووجد لزمه الوفاء ولو علقه بشرط لا يريده كأن زنيت خير بين الوفاء والتكفير هو الصحيح ومن وصل بحلفه إن شاء الله فلا حنث عليه.

*الدر المختار:(335/3،ط: دارالفكر)*
(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشيا فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة.

*فتاوی دار العلوم دیوبند:(150/12،ط: دارالعلوم دیوبند)*
ایک شخص نے نذر مانی نذر کی کہ اگر لڑکے کو آرام ہو جائے تو دس حافظوں سے ایک قرآن شریف ختم کراوں گا الخ

جواب:یہ نذر لازم نہیں ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
36
فتوی نمبر 1500کی تصدیق کریں