اگر کسی شخص نے دوسرے کی چیز اٹھا کر کسی تیسرے ادمی کو بغیر اس کی اجازت اور بغیر علم کے بیچ دی تو کیا مالک وہ چیز واپس لے سکتا ہے؟
شرعاً کسی کی چیز بغیر اس کی اجازت کے استعال کرنا اور بیچنا ناجائز ہے، اگر کوئی شخص کسی اور کی چیز بغیر اس کی اجازت اور رضامندی کے بیچ دے تو وہ مالک کی اجازت پر موقوف ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں زمین کا معاملہ مالک کی اجازت پر موقوف ہو گا اگر وہ اجازت دیتے ہیں تو وہ معاملہ صحیح ہوگا،ورنہ باطل ہو جائے گا۔
فتح القدير:(51/7،ط:دار الفكر) (قوله ومن باع ملك غيره بغير إذنه فالمالك بالخيار، إن شاء أجاز البيع، وإن شاء فسخ) وهو قول مالك وأحمد (وقال الشافعي: لا ينعقد لأنه لم يصدر عن ولاية شرعية لأنها بالملك أو بإذن المالك وقد فقدا، ولا انعقاد إلا بالقدرة الشرعية) وصار كبيع الآبق والطير في الهواء في عدم القدرة على التسليم، وطلاق الصبي العاقل في عدم الولاية، وقال رسول الله ﷺ لحكيم بن حزام «لا تبع ما ليس عندك». كنز الدقائق:(436/1،ط:دار السراج) ومن باع ملك غيره فللمالك أن يفسخه ويجيزه إن بقي العاقدان والمعقود عليه وله وبه لو عرضًا وصحّ عتق مشترٍ من غاصبٍ بإجازة بيعه لا بيعه ولو قطعت يده عند المشتري فأجيز فأرشه لمشتريه وتصدّق بما زاد على نصف الثّمن. ولو باع عبد غيره بغير أمره فبرهن المشتري على إقرار البائع، أو رب العبد على أنه لم يأمره بالبيع، وأراد رد البيع: لم يقبل.