السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! ایک مسئلہ پوچھنا ہے، ایک بندہ ہے، اس نے ظہر ،عصر اور مغرب کی نماز نہیں پڑھی اور عشاء کی نماز پڑھی ہے اور وہ یہ چاہ رہا ہے کہ جو باقی میری نمازیں قضا ہو گئی ہیں وہ عشاء کی نماز کے ساتھ ادا کرلوں، کیا یہ اس طرح پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
قضا نماز ہر وقت پڑھنا جائز ہے، البتہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں کوئی بھی نماز پڑھنا درست نہیں: 1) سورج طلوع ہونے کے وقت، یعنی طلوعِ آفتاب سے تقریباً دس منٹ تک۔ 2) عین دوپہر کے وقت، جب سورج بالکل سر پر ہو۔ 3) سورج غروب ہونے کے وقت، یعنی سورج زرد پڑجانے سے غروب تک؛ البتہ اس دن کی عصر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ان اوقات کے علاوہ جب چاہے قضا نماز ادا کر سکتا ہے۔
*الهندية :(121/1، ط:دارالفكربيروت)* ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات، كذا في البحر الرائق. *البنايةفي شرح الهداية:(56/2، ط:دارالكتب العلمية)* فالثلاثة المنصوصة حكمها أن لا يجوز الفرائض والنوافل أيضا في بعض الروايات، وأما غيرها فليس في معناها لأنه يجوز قضاء الفوائت وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة فيها بخلاف الثلاثة المذكورة فإن ذلك لا يجوز فيها.