کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کریم پر نقطے حجاج بن یوسف نے لگائے ہیں ، کیا یہ بات درست ہے؟
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے قرآن پر نقطے ابو الاسود دولی نے لگائے ہیں،اور بعض کا کہنا ہے، کہ بنو امیہ کے خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت میں، عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کے حکم پر قرآنِ مجید کے حروف پر نقطے لگانے کا کام کیا گیا، حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت یحییٰ بن یعمر رحمۃ اللہ علیہ نے اس اہم خدمت میں کردار ادا کیا، اس اقدام کا مقصد خصوصاً عجمی مسلمانوں کے لیے قرآنِ کریم کی درست قراءت کو آسان بنانا اور حروف میں امتیاز پیدا کرنا تھا، اس سے قرآنِ مجید کی تلاوت میں غلطی کے امکانات کم ہوئے اور پڑھنے والوں کے لیے بڑی سہولت پیدا ہوئی۔
تفسير القرطبي:(63/1،ط:دار الكتب المصرية وأما شكل المصحف ونقطه فروي أن عبد الملك بن مروان أمر به وعمله، فتجرد لذلك الحجاج بواسط وجد فيه وزاد تحزينه، وأمر وهو والي العراق الحسن ويحيى بن يعمر بذلك. الموسوعة الفقهية الكويتية:(14/38،ط:دارالسلاسل) والنقط كان أولا لبيان إعراب الحروف، أي حركاتها، وهو الذي عمله أبو الأسود الدؤلي، ثم استعملت علامات الشكل التي اخترعها الخليل بن أحمد، واستخدم النقط لتمييز الحروف المتشابهة بعضها عن بعض كالباء والتاء والثاء.