کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں اکثر لڑکے اور لڑکیاں عشق ومحبت کی وجہ سے ایک دوسرے کے نام اپنے ہاتھوں میں سوئی یا قلم سے لکھتے ہیں ایسا کرنا کیسا ہے ؟
لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک دوسرے کے نام اپنے ہاتھوں یا جسم پر سوئی، بلیڈ، ٹیٹو یا قلم وغیرہ سے لکھنا اخلاقاً اورشرعاً ناجائز ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس سے سخت ممانعت آئی ہے ، البتہ قلم سے نام لکھنے کی ممانعت اگرچہ ثابت نہیں ، تب بھی چونکہ اس میں ناجائز محبت کی تشہیر، غیر شرعی تعلقات کی حوصلہ افزائی، اور فتنہ کا اندیشہ پایا جاتا ہے، اس لیے اس سے بھی بچنا لازم ہے۔
صحيح مسلم: (6/ 166، رقم الحديث : 119 - (2124)، ط: دارطوق النجاة) عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة . الشامية : (6/ 373، ط: دارالفكر) والواشمة: التي تشم في الوجه والذراع، وهو أن تغرز الجلد بإبرة ثم يحشى بكحل أو نيل فيزرق والمستوشمة: التي يفعل بها ذلك بطلبها.