محترم مفتی صاحب ! نیشنل سیونگ پلان کے بارے میں معلومات اور حکم بتائیں۔ شکریہ
ہماری معلومات کے مطابق پاکستان نیشنل سیونگ پلان اسکیم میں جو رقم جمع کی جاتی ہے، شرعی اعتبار سے اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض پر کسی قسم کا نفع لینا سود ہے، جس کا حرام ہونا واضح ہے ،لہذا اس میں سرمایہ کاری کرنا اور نفع حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ۔
القرأن الكريم : [البقرة:/2 275] ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ . تفسير الرازي : (7/ 72، ط: دار احياء التراث العربي ) والربا عبارة عن طلب الزيادة على المال مع نهي الله عنه. حلية الأولياء وطبقات الأصفياء: (9/ 61، ط: مطبعة السعادة مصر ) عن سماك بن حرب عن عبد الرحمن عن عبد الله إن شاء الله أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.