کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نابینا شخص کی امامت مطلق ناجائز ہے ؟ اگر اور کوئی اس سے افضل موجود نہ ہو تواس صورت میں نابینا کی امامت کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ نابینا شخص کی امامت اس وقت مکروہ ہے ، جب وہ نجاست سے نہ بچتا ہو ، اور بذات خود استقبال قبلہ پر قادر نہ ہو ، لیکن اگر وہ نجاست سے بچتا ہو اور استقبال قبلہ پر بھی قادر ہو ، نیز مسجد میں اس سے افضل کوئی اور موجود نہ ہو ، تو ان کو امام بنانا جائز ہے ۔
سنن أبي داود: (1/ 445 ، رقم الحديث : 595، ط: دارالرسالة العالمية ) عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى. الشامية : (1/ 560، ط: دارالفكر) (قوله ونحوه الأعشى) هو سيئ البصر ليلا ونهارا قاموس، وهذا ذكره في النهر بحثا أخذا من تعليل الأعمى بأنه لا يتوقى النجاسة.