میرے شوہر کا انتقال ہوا ہے، شوہر کی زندگی میں میں نے دو تولہ سونا مکان کی تعمیر اور کسی اور ضرورت کی بنا پر بطورِ قرض دیا تھا، اسی طرح شوہر کی بہنوں نے بھی بیوہ کے شوہر، یعنی اپنے بھائی کو مختلف مواقع پر چند تولے سونا بطورِ قرض دیا تھا، اب اس کے مال سے ان دونوں طرف کے قرضوں کی ادائیگی آج کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے، یا دینے کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟ اب شوہر کے ترکہ میں سے دونوں قرضوں کی ادائیگی کس طرح ہوگی؟ وضاحت فرمائیں
پوچھی گئی صورت میں جو سونا آپ کے شوہر نے آپ سے یا اپنی بہنوں سے بطور قرض لیا تھا تو اب اس کے مرنے کے بعد اس کے ترکے میں سے اتنی ہی مقدار کا سونا یا اس کی موجودہ قیمت دینا لازم ہوگا، جس وقت سونا دیا تھا اس وقت کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا۔
الشامية: (3/ 840،ط:دارالفكر) (قوله لأن الديون تقضى بأمثالها) قال في الفتح: لأن قضاء الدين لو وقع بالدراهم كان بطريق المقاصة، وهو أن يثبت في ذمة القابض وهو الدائن مضمونا عليه لأنه قبضه لنفسه ليتملكه، وللدائن مثله على المقبض فيلتقيان قصاصا وكذا هنا. ایضاً :(5/ 177) فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا. العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 279دار المعرفة) (سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.