اگر کوئی آدمی اپنے شہید بھائی کے لیے دعا کرنا چاہے تو کیا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے وسیلہ سے دعا مانگ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ نیک اعمال اور اللہ کے نیک بندوں کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، جیسا انبیاء کرام علیہم السلام کے وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے، اسی طرح انبیاء کرام کے علاوہ دیگر اللہ کے نیک بندے جیسے صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین یا دیگر بزرگان دین کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی جائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شخص یوں دعا کرے: "یا اللہ! حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے صدقے میرے بھائی کی مغفرت فرما" تو یہ دعا جائز ہے، بشرطیکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو وسیلہ بنایا جائے اور مغفرت کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھا جائے۔
صحيح البخاري: (رقم الحدیث:3710،ط:دار طوق النجاة) عن أنس رضي الله عنه: «أن عمر بن الخطاب: كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب، فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا صلى الله عليه وسلم فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون. فتح الباري:(2/ 497، ط :دارالمعرفة) ويستفاد من قصة العباس استحباب الاستشفاع بأهل الخير والصلاح وأهل بيت النبوة، وفيه فضل العباس وفضل عمر لتواضعه للعباس ومعرفته بحقه.