مفتی صاحب ! میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں جس میں لوگ عصر کی نماز کے بعد شفٹ ختم ہونے تک تلاوت اور ذکر کرتے رہتے ہیں اور دوبارہ کام پر نہیں جاتے تو مینجمنٹ نے ورکر کو کام پر واپس بھیجنے کے لیے مسجد کے لائٹس اور مسجد کو نماز کے 25 منٹ بعد بند کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے بعد میں نماز کے لیے آنے والوں کے لیے مشکل پیش آتی ہے۔ رہنمائی فرما دیجئے کہ کیا مینجمنٹ کا یہ عمل درست ہے ؟
واضح رہے کہ مزدوروں کو کام کے وقت میں وقتی نمازوں کے علاوہ نفل اور تلاوت میں مشغول رہنا جائز نہیں، مکمل دورانیہ میں کام کرنا ان پر لازم ہے ،جو مزدور نماز کے بعد کام پر نہیں جاتے ،وہ غلط کرتے ہیں ،ان کو اس عمل سے اجتناب کرنا ضروری ہے ،لیکن اس کے رد عمل میں منیجمنٹ کا مسجد کو بند کرنا، جس سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہو ، درست نہیں مزدوروں کو کام پر لانے کے لیے ان پر کوئی اور پابندی عائد کی جائے۔
الدرالمختار : (6/ 70، ط: دارالفكر) وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. الشامية : (6/ 70، ط: دارالفكر) (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 65، ط: داراحياء التراث العربي ) ويكره أن يغلق باب المسجد" لأنه يشبه المنع من الصلاة وقيل لا بأس به إذا خيف على متاع المسجد في غير أوان الصلاة. تفسير القرطبي : الجامع لأحكام القرآن: (2/ 77، ط: دار الكتب المصرية ) الثالثة: خراب المساجد قد يكون حقيقيا كتخريب بخت نصر والنصارى بيت المقدس على ما ذكر أنهم غزوا بني إسرائيل مع بعض ملوكهم- قيل: اسمه نطوس بن اسبيسانوس الرومي فيما ذكر الغزنوي- فقتلوا وسبوا، وحرقوا التوراة، وقذفوا في بيت المقدس العذرة وخربوه. ويكون مجازا كمنع المشركين المسلمين حين صدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المسجد الحرام، وعلى الجملة فتعطيل المساجد عن الصلاة وإظهار شعائر الإسلام فيها خراب لها.