کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک شخص کو کاروبار کے لیے رقم دی اور یہ طے ہوا ، کہ منافع آدھا آدھاتقسیم ہوگا ، اس نے میری ہی رقم سے آٹے کا کاروبار کیا اور کچھ عرصہ تک منافع معاہدہ کے تحت آدھے آدھے تقسیم ہوتے رہے ، اب وہ بندہ کہتا ہے کہ منافع آدھے آدھے ہوں گے اور میں الگ سے مزدوری بھی لوں گا کیونکہ دوکان میں بہت سارے کام کرنے پڑتے ہیں۔ پوچھنایہ ہے کہ اس شخص کا یہ اس طرح مطالبہ کرنا درست ہے ؟ یا یہ محض طے شدہ منافع کاہی مستحق ہے ؟
اگر مذکورہ شخص آپ ہی کی رقم سے کاروبار چلا رہا ہے توا س کی حیثیت مضارب کی ہے ، اب اگر یہ دوکان میں صرف اس قسم کا کام کرتا ہے جو دوکاندار اپنے لیے کرتے ہیں تو یہ صرف طے شدہ منافع کا مستحق ہے اور اس کا زائد اجرت کا مطالبہ کرناجائز نہیں۔
الهندية: (4/ 285، ط: دارالفكر) أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر حتى لو شرط الربح كله لرب المال كان بضاعة ولو شرط كله للمضارب كان قرضا هكذا في الكافي. فلو قبض المضارب المال على هذا الشرط فربح أو وضع أو هلك المال بعد ما قبضه المضارب قبل أن يعمل به كان الربح للمضارب والوضيعة والهالك عليها كذا في المحيط. الدرالمختار : (5/ 648، ط: دارالفكر) ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها. البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (7/ 264، ط: دارالكتاب الاسلامي) السادس أن يكون المشروط للمضارب مشروطا من الربح حتى لو شرط له شيئا من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت.