مفتی صاحب! ایک شخص دوسرے شخص کو دو لاکھ روپے دے دیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے پنجاب سے چینی منگوا دیں اور پھر اسے فروخت کر دیں اور جو منافع ہوگا ،وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا، پھر وہ مضارب پنجاب سے چینی خرید لیتا ہے اور پھر مارکیٹ سے ریٹ معلوم کر لیتا ہے اور اس سے اندازہ لگا دیتا ہے کہ اس سے اتنا منافع ہوگا اور اس منافع کے بقدر اصل مالک کو اس کا منافع دے دیتا ہے ،جبکہ چینی اس نے ابھی تک فروخت نہیں کی ہے، تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟ اور اس طرح منافع رکھنا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ مضاربت میں حقیقی نفع کا اعتبار ہوتا ہے اور حقیقی نفع تب ہوگا جب چیز کو بیچ دیا جائے، اس لیے پوچھی گئی صورت میں اگر چینی کو بیچنے سے پہلے رب المال کو نفع دیا جائے ،تو یہ معتبر نہیں۔ چینی بیچنے کے بعد دوبارہ حساب کتاب کرنا پڑے گا ،فروخت کرنے کے بعد جتنا نفع ہوگا ،اس نفع میں دونوں نفع کے تناسب سے حقدار ہوں گے ۔ اسلام اور جدید معیشت و تجارت:(ص167، ط: معارف القرآن کراچی ) نفع مقرر کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو نفع حقیقت میں ہوگا ،اس کا فیصد حصہ مقرر کیا جائے ۔
آ سان فقہ المعاملات (2/62 ، ط: الحجاز کراچی ) مضاربت میں نفع اسے کہا جائے گا ،جو رس المال یعنی اصل سرمایہ سے زائد ہو، لہذا حقیقی نفع کا علم حتمی اور آخری حساب کتاب کے بعد ہی ہوگا، اس سے پہلے اگر نفع کے نام پر جو کچھ رقم تقسیم ہوئی وہ عارضی ہوگی ۔ دوسری جگہ ہے تمام اثاثہ جات بکے بغیر نفع کی حتمی تقسیم ۔۔۔۔ مضاربت کا حتمی حساب کتاب اس وقت ہوگا ،جب سارے کاروباری اثاثہ جات فروخت ہو کر نقد میں تبدیل ہو جائیں ۔