مفتی صاحب ! اس مسئلے کے بارے میں وضاحت فرمائیں کہ ایک کاریگر کو کوئی چیز بنانے کے لیے دی ،اس نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی ،مگر وہ چیز ٹھیک نہیں ہوئی، تو کیا وہ کاریگر اپنے محنت کے معاوضے کا حقدار ہوگا ؟جبکہ چیز کا مالک کہتا ہے کہ جب چیز ٹھیک ہی نہیں ہوئی تو معاوضہ کیسا؟
پوچھی گئی صورت میں جب چیز ٹھیک نہیں ہوئی، تو کاریگر اجرت کا مستحق نہیں۔
الهندية: (4/ 469، ط: دارالفكر) وإن استأجره ليذهب بكتابه إلى فلان ويجيء بجوابه فذهب بالكتاب فوجد فلانا قد مات فترك الكتاب ثمة أو مزقه ولم يرد كان له أجر الذهاب في قولهم لأنه لم ينقض عمله وقيل إذا مزقه ينبغي أن لا يجب الأجر لأنه إذا ترك الكتاب ثم ينتفع بالكتاب وارث المكتوب إليه فيحصل له الغرض بخلاف ما إذا مزقه هكذا في فتاوى قاضي خان.... وأجمعوا على أنه لو ذهب إلى فلان بالبصرة ولم يذهب بالكتاب أنه لا أجر له وفيما إذا شرط عليه المجيء بجوابه إذا دفع إلى فلان وأتى بالجواب فله الأجر كاملا كذا في المحيط. آسان فقہ المعاملات : (1/504، ط: الحجاز کراچی ) مزدور اس وقت اجرت کا مستحق بن جاتا ہے ، جب وہ مطلوبہ صفات کے ساتھ کام مکمل کرے ۔