کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی مرتد ہو چکا ہے اور وہ اپنے ارتداد کا اعلان بھی کرتا ہے اب آیا اس مرتد کو قتل کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ؟یا عوام بھی اسے قتل کر سکتی ہے ؟اگر حکومت اسے قتل نہیں کرتی، تو عوام گنہگار ہوں گی یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو اسے قتل کرنا حکومت وقت کا کام ہے عام آدمی کے لیے اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر کسی نے حکومت وقت کی اجازت کے بغیر اسے قتل کر دیا تو بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا ، اگر حکومت وقت مرتد کو قتل نہیں کرتی ،تو اس کا گناہ حکومت وقت پر ہوگا ، عوام گنہگار نہیں ہوں گے۔
الدرالمختار : (4/ 245، ط: دارالفكر) (و) اعلم أن (كل مسلم ارتد فإنه يقتل إن لم يتب ). الهندية: (2/ 254، ط:دارالفكر) فإن قتله قاتل قبل عرض الإسلام عليه، أو قطع عضوا منه كره ذلك كراهة تنزيه هكذا في فتح القدير فلا ضمان عليه لكنه إذا فعل بغير إذن الإمام أدب على ما صنع كذا في غاية البيان. الموسوعة الفقهية الكويتية: (22/ 190، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية ) اتفق الفقهاء على أنه إذا ارتد مسلم فقد أهدر دمه، لكن قتله للإمام أو نائبه، ومن قتله من المسلمين عزر فقط؛ لأنه افتات على حق الإمام؛ لأن إقامة الحد له .